رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو

by Other Authors

Page 94 of 150

رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 94

۹۴ کہا کہ میں رب العالمین خدا نے مجھے پیدا کیا ہے اور اس کے نتیجہ میں وہ مجھے ہدایت بھی دے گا اور جس کی صفت یہ ہے کہ وہ مجھے کھانا کھلاتا اور پانی پلاتا ہے اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہ مجھے شفا دیتا ہے اور جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہ ایسا ہے کہ میں امید کرتا ہوں کہ میرے گناہ جتند استرا کے وقت مجھے معاف کر دے گا۔سل : قوم پر ان باتوں کا کیا اثر ہوا ؟ ج: قوم کے دل قبول حق کے لیے بالکل تیار نہ ہو ئے بلکہ ان کا انکار حد سے بڑھ گیا۔، بت پرستی کے علاوہ قوم کا کیا عقیدہ تھا؟ ج :- حضرت ابراہیم کی قوم ثبت پرستی کے ساتھ ساتھ کو اکب پرستی بھی کرتی تھی۔ان کا یہ عقیدہ تھا کہ انسانوں کی موت وحیات ، ان کا نفع نقصان، ان کا رزق۔ان کی فتح و شکست معرض تمام کارخانہ عالم کا نظام کو اکب کی تا نیزوں سے چل رہا ہے۔اس لیے ان کی پرستش بھی ضروری ہے۔حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شریک ایک فلسفیانہ مضمون بن گیا تھا اور عقلوں پر فلسفہ کا غلبہ شروع ہو گیا تھا۔شکی: حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کو کن پانچ امور کی طرف توجہ دلائی ؟ ج :- حضرت ابراہیم نے انہیں کہا کہ تم خا کی عبادت کر دور جن معبودان باطلہ کی تم پرستش کرتے اور وہ نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی مشکلات میں تمہارے کام آسکتے ہیں۔۔ہر قسم کا رزق خدا کے ہاتھ میں ہے۔اس لیے اس خدا تعالیٰ سے مانگو جو تام خیر برکت کا منبع ہے۔عیادت بھی اللہ ہی کی بیجا لاؤ کسی اور کو قابل پرستش نہ سمجھو۔خدا تعالیٰ کی عطا کردہ نعما۔پرائس کاشت کر یہی لائے۔تم مرنے کے بعد پھر زندہ ہو کہ خدا کے حضور حاضر کیے جاؤ گے اس لیے نیک