رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 80
ج : حضرت لوط اور حضرت نوح کی بیویوں کے ساتھ کیونکہ یہ دونوں ایمان نہ لائی تھیں اس واسطہ ظاہری تعلق اور رشتہ کسی کام نہ آیا بلکہ اپنی بدگوئی اور مخالفت کی وجہ سے عذاب الہی میں گرفتار ہو کہ بلاک ہو گئیں۔شش :- عذاب الہی کی نوعیت کیا تھی ؟ ج : اس قوم پر عذاب الہی ایک زلزلہ کی صورت میں آیا عذاب کی بارش خطر ناک زلزلہ کی صورت میں ہوئی اور زمین کا تختہ الٹ گیا اور مٹی سینکڑوں فٹ اوپر جا کہ پھر نیچے گری اور اس طرح گو یا مٹی اور پتھروں کی بارش ہوئی۔قرآن مجید میں متعدد بار اس عذاب کا ذکر آیا ہے۔جیسا کہ سورۃ الحجر میں ہے۔ما خَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُشْرِقِيْنَ، نَجَعَلْنَا عَالِيَهَا سَائِلُهَا وَامْطَرْنَا عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجَيْلِ ترجمہ :۔اس پر اس عذاب نے انہیں دن چڑھتے ہی پکڑ لیا یہیں پر ہم نے اس بستی کی اوپر والی سطح کو نچلی سطح کر دیا اور ان پر سنگر نیندوں سے بنے ہوئے پتھروں کی بارش برسائی۔اور سورہ ہود آیت ۸۳ ۸۴ میں ہے فلا جَاءَ امْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيهَا سَائِلَها وَامْطَرْنَا عليها حمالة من سِينِ، مَنْفَيْرِهِ مُسَرَمَةً عِنْدَرَيكَ ومَاهِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيد ترجمہ :۔پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اس بستی کے اوپر والے حصے کو نیچے والا حصہ بنا دیا اور اس پر سوکھی مٹی کے بنے ہوئے پتھروں کی یکے بعد دیگرے بارش برساتی۔جو تیرے رب کے ہاں ان کے لیے مقدر کئے ہوتے تھے۔اور ان ظالموں سے یہ عذاب دور نہیں۔سورة الشعراء آیت ۱۷۲ ۷۴ میں آیا ہے۔تم دمرنَا الْأَخْرِينَ ، وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِ عَمَلاً