رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 72
ان میں اتنے نیک ہوئے تو میں ان کی خاطر باقیوں کو بھی بچا لوں گا۔آخر گرتے گرتے حضرت ابراھیم نے کہا کہ اگر دس نیک ہوں تو کیا دس کی خاطر دوسروں کو نہیں بچائے گا۔اللہ تعالے حضرت ابراھیم علیہ السلام کی ہر ایک بات مانتا گیا آخر حضرت ابراھیم علیہ السّلام سمجھ گئے کہ دس نیک بھی اس بستی میں موجود نہیں اور خاموش ( پیدائش باب ۱۸ ) ہو گئے۔شکی:۔اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے قوم لوط کے متعلق کیا کہا ؟ ج :- اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا۔تو اس سفارش سے رک جا کیونکہ تیرے رب کا آخری حکم آچکا ہے اور ان کفار کی ایسی حالت ہے کہ اُن پر نہ ملنے والا عذاب آکر رہے گا جیسا کہ سورۃ ہود آیت کے میں ذکر ہے۔يا إبراهيم أَعْرِضْ عَنْ هَدَا إِنَّهُ قَدْ جَاء أَمْرُرَتِكَ وَإِنَّهُما تِيْهِمْ عَذَابٌ غَيْرُ مَن دُورِهِ ترجمہ مہ اسے ابراہیم علیہ السلام تو اس سفارش سے ڈرک جا۔کیونکہ تیرے رب کا آخری حکم آچکا ہے اور ان کفار پر نہ ملنے والا عدات آکر رہے گا۔۔یہ درشل کون تھے ؟ ج - بعض لوگوں کے نزدیک یہ فرشتے تھے اور بعض کے نزدیک یہ فرشتہ خصلت انسان تھے۔جنہیں ان کی نیکی کی وجہ سے ملک کہا گیا ہے۔جیسا کہ سعدرہ یوسف علی حضرت یوسف علیہ السّلام کی نسیت۔إِن هَذَا الَّا مَلَكُ كَرِيمٌ ترجمہ۔یہ تو ایک معزز فرشتہ ہے ) کے الفاظ کہے گئے ہیں۔حضرت مصلح موعود کے نزدیک بھی رسولوں