رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 67
46 بننے کے نہایت مغرور ، متکبر اور سرکش ہو گئے تھے شیطانی اعمال بجالاتے تھے، بے بیائی اور بدکرداری کی انتہا تھی اور یہ فعل اعلانیہ کرتے اور فخر کے ساتھ اس کا ذکر کرتے قرآن مجید نے ان کے اس فعل شنیعہ کا ذکر کیا ہے۔نكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْرَةٌ مِنْ دُونِ النِّسَاءِ ط بل انتو قوم مشرحُونَ (الاعرات کو تا ۱۰ آیت ۸۲) ترجمہ :۔کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت کے ارادہ سے آتے ہو بلکہ اصل بات یہ ہے کہ قم حد سے بڑھنے والی قوم ہو۔اہل سدوم اور عمورہ بد اخلاقی اور بد کاری میں حد سے تجاوز کر چکے تھے۔ان میں شرافت اور انسانیت کی کوئی خوبی ہے نہ پائی جاتی تھی اسی نسبت سے قوم کے بد کاروں کو سیڈومی کہتے ہیں۔عام لوگوں کے علاوہ سرداران اور قوم کے حکماء بھی اخلاق سے عاری تھے۔اس قوم میں یہ برائی بھی تھی کہ یہ اپنی بستیوں میں داخل ہونے والے مسافروں کو ٹوٹ لیا کرتے تھے۔جیسا کہ سورۃ العنکبوت میں الفاظ آئے ہیں۔و تعلمون السبيل وَتَالُونَ فِي نَارِ يكُمُ المنكر ترجمہ۔اور تم ڈاکے مارتے ہو اور اپنی جلسوں میں ناپسندیدہ حرکتیں کرتے ہو۔) یا۔حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم سے کیا کہا؟ ج وہ حضرت لوط علیہ السّلام نے اپنی قوم سے کہا کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے تمہاری جانب ایک امانت دار پیغمر بنا کر بھیجا گیا ہوں تم خدا سے ڈرو ، میری اطاعت کرو اور میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگا۔جیسا کہ اس کا ذکر سورة الشعراء رکوع 9 میں آیا ہے۔حضرت لوط علیہ السّلام نے اپنی قوم کو اخلاقی برائیوں سے بچنے کی بھی تلقین کی اور کہا۔