رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 66
حضرت ابرا ہیم علیہ السّلام نے اس صورت حال کا اندازہ کر کے حضرت لوط علیہ السلام سے مشورہ کیا اور دونوں کی صلاح سے یہ طے پایا کہ باقی تعلقات کی خوشگواری اور دائمی محبت والفت کی بقا کیلئے ضروری ہے کہ حضرت لوہا ہوں مصر سے ہجرت کر کے شرق اُردن کے علاقہ سدوم اور عمورہ پہلے جائیں اور وہاں رہ کر دین حنیف کی تبلیغ کریں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی رسالت کا پیغام حق سنا تے رہیں۔(قصص القرآن جلد اول ص ۲۵۶ - ۳۵۷) سل حضرت لوط علیہ السّلام کے تحت کتنی بستیاں تھیں؟ ج: حضرت لوط علیہ السّلام کے زیر تبلیغ پانچ بستیاں تھیں۔ی۔وہ بستیاں کہاں واقع تھیں۔ج - موجود و شرق اردن اور فلسطین کے درمیان ایک مشہور جھیل ہے جس کے نام بحیرہ میت۔بحیرہ مردار اور بحیرہ لوط ہیں اس جھیل کے جنوبی حصے میں سر سبز شاداب وادی واقعہ تھی جس میں کئی بستیاں، سدوم ، عمورہ ، ) ، گمرا معرفہ آباد تھیں۔و درس القرآن س۲۷۵ فرموده حضرت خلیفته المسيح الاول ) : - سدوم اور عمورہ کی بستیاں کیسی تھیں ؟ ج : یہ بستیاں بہت سرسبز و شاداب تھیں۔پانی کی کثرت تھی زمین زرخیز تھی۔پھلوں کی بہتات تھی۔باغات کی کثرت تھی۔لوگ خوب کھیتی باڑی کرتے تھے۔ان کے باشندے خوشحال اور فارغ البال تھے۔ی۔حضرت لوط علیہ السّلام نے اپنا مسکن کسی لیستی کو بنایا ؟ -: حضرت لوط علیہ السّلام نے اپنا مسکن سدوم کی بستی کو بنایا جو سب سے زیادہ مشہورا اور آباد تھی۔شرہ قوم لوط کی اخلاقی حالت کیسی تھی ؟ ج : ہر قسم کی نعماد سے مالا مال ہونے کی وجہ سے یہ لوگ بجائے بعد شکور