رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 62
۶۲ کا مستحق بنا دیتا ہے۔(تفسير كبير سورة الشعراء ص۲۲۳) اور خدا تعالے اپنی صفت رحیمیت کے ماتحت اپنے صالح بندوں کی تبلیغی مساعی میں برکت ڈالتا ہے اور نہیں دنیا کے لیے راہنما بنا دیتا ہے۔:- " ناقتہ اللہ " سے اور کیا مراد ہے ؟ ج :۔بعض لوگوں نے ناقتہ اللہ سے مراد حضرت صالح کا وجود دیا ہے اور تاکل سے مراد ، ان کا تبلیغ کرنا۔د قرآن مجید مش۲۹ م : - فَقَالَ لَه هُدى سولُ اللهِ نَاقَةَ الله وسقيها (سورة الشمس) - لهم اللهِ میں ناقہ اللہ کے لفظ میں کونسی لطیف مثال بیان کی گئی ہے۔ج :۔خدا تعالیٰ نے انسان کے نفس کو ناقہ اللہ سے مشابہت دی ہے اور مطلب یہ ہے کہ انسان کا نفس بھی درحقیقت اس غرض کے لیے پیدا کیا گیا ہے کہ تا وہ ناقہ اللہ کا کام دیو ہے اور اس کے فنافی اللہ ہونے کی حالت میں خدا تعالٰی اپنی پاک تھیلی کے ساتھ اس پر سوار کی جسے کوئی اونٹنی پر سوار ہوتا ہے۔سونف پرست لوگوں کو تجو حق سے منہ پھیر رہے ہیں۔تہدید اور انزار کے طور پر فرمایا کہ تم لوگ بھی قوم ثمود کی طرح ناتے اللہ کا سقیا یعنی اس کے پانی پینے کی جگہ جو یا واہی اور مصارف الہی کا چشمہ ہے جس پر اس ناقہ کی زندگی موتون ہے اس پر بند کر رہے ہو اور نہ صرف بند بلکہ اس کے پیر کاٹنے کے فکر میں ہو تادہ خدا تعالے کی راہوں میں چلنے سے بالکل رہ جائے۔دورس القرآن فرمودہ حضرت خلیفہ اول