رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 130
119 ايتك ا بْعَثُ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ تر مجید :۔اے ہمارے رب ان میں ایک عظیم الشان رسول مبعوث کر جو انہی میں سے ہو جو تیری آیات پڑھے۔ويُعَلِّمُهُمُ الكتب والحكمة ترجمہ :۔اور انہیں کتاب اور حکمت سکھائے ويزكيهم ترجمہ :۔اور انہیں پاک ٹھہرائے۔اس واسطے مومن سات دفعہ وہاں طوائف کرتا ہے اور یہ دعائیں کرتا ہے اور اس مقام کو ڈھونڈتا ہے جہاں یہ دعائیں قبول ہوئیں۔د درس القرآن ص فرموده حضرت خلیفہ اول ، حضرت ابراہیم نے کس نیت سے مکہ کی بنیا د رکھی تھی ؟ ج : - حضرت ابراہیم نے اس نیت سے مکہ کی بنیاد رکھی تھی کہ یہ توحید اور دین حق کی تبلیغ و اشاعت کا مرکز بنے اور امن عالم کے قیام کا ایک زبر دست ذریعہ قرار پائے۔خدا تعالے کے گھر کی تجدید کس نے کی؟ ج : - تمام آزمائشوں پر پورا اترنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے بہت اللہ کی از سر نو تعمیر کی اور اس کی بنیادوں کو بلند کیا۔جیسا کہ سورۃ البقرۃ میں آتا ہے۔وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْراهِمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ( سوره البقره آیت ۱۴۸) ترجمہ :۔اور داس وقت کو بھی یاد کرو) جب ابراہیم اس گھر کی بنیادیں اٹھا رہا تھا اور اس کے ساتھ، اسماعیل بھی اور وہ دونوں کہتے جاتے تھے کہ