رَیُّ الْاَنبِیَاء ۔ انبیاء کی خوشبو — Page 106
1۔4 باری تعالی سن که دا جناب ہو گئی تو انہوں نے کیا فیصلہ کیا ؟ ج بادشاہ اور اس کی قوم حضرت ابراہیم کے دلائل سن کو لاجواب ہو گئے۔مرابط مستقیم کو اختیار کرنے کی بجائے وہ حق سے منحرف ہی رہے۔بلکہ غیض و غضب میں مزید بڑھ گئے اور سب نے یہ متفقہ فیصلہ کیا کہ بہتوں کی توہین و تذلیل کرنے کے باعث ابراہیم کو دہکتی ہوئی آگ میں جلا دینا چاہیئے اور اپنے معبودوں کی مدد کرنی چاہیے۔قالواهم قوه وانْصُرُوا الهَتَكُمْ إِن كُنتُم فاعلين۔(سورة الانبياد) فلسطینی رہتوں کے لڑیچر میں لکھا ہے کہ جب نمرود نے حضرت ابراہیم کو جلانے کا حکم دے دیا۔ایک لکٹریوں کا انبار پانچ گز مربع جمع کیا گیا اور اس کو آگ لگائی گئی اور ابراہیم کو اس میں ڈالا گیا۔اور بعض جگہ یہ واقعہ یوں لکھا ہے کہ فرود اور قوم نے ابراہیم کی سزا کے لیے ایک مخصوص جگہ بنوائی اور اس میں مسلسل کئی روزہ آگ دہکائی گئی حتی کہ اس کے شعروں سے قرب وجوار کی اشیا جھلسنے لگیں۔جب جب بادشاہ کو اور قوم کو یہ اطمینان ہو گیا کہ اب ابراہیم کے بچنے کی کوئی صورت باقی نہ رہے گی تب ایک گوپھن میں ابراہیم کو بجھا کہہ دھکتی ہوئی آگ میں پھینک دیا گیا۔شہ اللہ تعالیٰ نے آگ کو کیا حکم دیا ؟ ج : اللہ تعالیٰ نے آگ کو یہ حکم دیا کہ اسے آگ ! تو ابراہیم کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔اس پر اعجاز واقعہ کا ذکر سورۃ الانبیا میں آتا ہے : تلنا يباركونى مرداً وَ سَلَّما عَلَى إِبْرَاهِيمَه وَأَرَادُوا یہ كَيْدًا نَجَعَلْتُهُمُ الْأَحْسَرِينَ ٥