انبیاء کا موعود

by Other Authors

Page 59 of 69

انبیاء کا موعود — Page 59

40 ہوئی ہے کہ انہوں نے کس طرح انسانیت کی خدمت کی۔اب ہم آنحضرت کی زندگی میں پتھر اور پہاڑ کی اہمیت کو لیتے ہیں دا، آپ غارِ حرا میں عبادت کرتے تھے جو کوہ بشیر میں واقع ہے اور اسی کی وجہ سے وہ اب جبل نور کہلاتا ہے پھر جب آپ کو حکم ملا کہ کھل کر تبلیغ کرو (۲) تو آپ نے کوہ صفا پر چڑھ کر تمام عرب کے قبائل کو پکارا (۳) پھر ہجرت کے وقت کوہ نور کے غار ثور میں پناہ لی اور گھر سے نکلتے ہوئے ایک مٹھی کنکر ان کفار کی طرف رات کو پھینکے جو آپ کے گھر کا پہرہ دے رہے تھے جس کی وجہ سے وہ آپ کو دیکھنے سے معذور ہو گئے۔(۴) جنگ بدر کے موقع پر بھی کفار پر کنکریاں پھینکیں جس نے آندھی کی شکل اختیار کرلی (۵) شعب ابی طالب میں جو ایک پہاڑی درہ ہے ۳ سال گزارے (4) اُحد کے پہاڑ بھی آپ کی زندگی میں بڑی اہمیت رکھتا ہے جہاں شہدائے احد آج بھی اپنے عشق اور دفا کی یادگار ہیں دے) طائف کی وادی میں آپ پر پتھر برسائے گئے اور جب آپ لہو لہان ہو گئے تو پہاڑوں کا فرشتہ نازل ہوا کہ آپ حکم دیں تو میں ان پہاڑوں کو ملادوں مگر آپ نے گوارا نہ کیا (1) جنگ خندق کے موقع پر جب خندق کھودی جارہی تھی تو ایک پتھر ایسا آیا جو ونتا نہ تھا مگر جب آپ نے ۳ بار گدال ماری تو وہ پتھر ٹوٹ گیا اور ۳ نظارے کھائے گئے جن میں شام ایران اور یمن کی فتح کی پیشگوئی تھی دو، فتح مکہ کے موقع پر پتھروں کے بتوں کو توڑا (1) اور آخری خطبہ جو حجتہ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا تو آپ اپنی اونٹنی قصوی پر سوار جبل نور پر موجود تھے۔اس طرح سے پیارے آقا کی زندگی میں بڑے بڑے پتھر آئے جو قبائل کے سردار تھے جو آپ سے ٹکرائے وہ تو ٹوٹ پھوٹ گئے لیکن جو آپ کے قدموں میں آگئے وہ نیلم یا قوت اور زمرد بن گئے۔