انبیاء کا موعود

by Other Authors

Page 60 of 69

انبیاء کا موعود — Page 60

44 پھر حضرت عیسی نے کہا کہ " خدا کی بادشاہت ان سے لے لی جائے گی تو خدا کی بادشاہت نبوت کا انعام ہے جو بنی اسرائیل سے لے لی گئی اور میرے آقا کو ملی۔اب ان کے صدقے سے جو بھی آپ کی اطاعت۔آپ کی محبت میں فنا ہو گا وہ بھی اس بادشاہت سے حصہ لے سکتا ہے کیونکہ اب نبوت نسلی نہیں رہی۔نہ ہی قومی اور متلی ہے بلکہ اس کے لئے شرط ہے اس کے محبوب کی محبت کی پھر حضرت عیسی فرماتے ہیں دیکھو تمہارا گھر تمہارے لئے ویران چھوڑا جاتا ہے کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اب سے تم مجھے پھر نہ دیکھو گے جب تک کہو گے مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام پر آتا ہے۔(متی باب ۲۳ آیت ۳۸ - ۳۹) اس میں بھی جو نشانی ہے کہ گھر دیران چھوڑا جاتا ہے تو بنی اسرائیل کا گھر ویران ہوا کیونکہ اس سے خدا کی بادشاہت بھی چھینی گئی اور اب کوئی خدا کی طرف سے اس گھر میں نہیں آئے گا۔اس لئے گھر تو ویران ہوا۔پھر عیسائیوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ جب تم اس خدا کے نام پر آنے والے کو مبارک نہ جانو گے مجھے نہ دیکھ سکو گے۔اور آپ کے بعد سوائے رسولِ خدا کے کوئی خدا کے نام پر نہیں آیا۔آپ نے ہی دنیا میں خدا کی عظمت کو اس کی قدرت کو ظاہر کیا اور قائم کیا۔تمام چھوٹے بتوں کو توڑا اور خدا کی وحدانیت یعنی خدا کا ایک ہونا ثابت کیا۔اس کے نام کو پھیلایا۔اپنے ماننے والوں سے جو پہلا کلمہ کہ بلواتے تھے وہ تھا لا الہ الا اللہ کہ خدا کے سوا کوئی نہیں جب خدا کے سوا کوئی نہیں تو سب کچھ رہی ہوا۔اور اس طرح مسلمانوں کی زندگی میں خدا ہی خدا نظر آتا تھا۔حضرت عیسی یو حنا میں کہتے ہیں " جو بات ناموس میں ہے اس کا پورا ہونا ضروری ہے۔انہوں نے مجھ سے ناحق بغض کیا پس کاش منمنا آگئے ہوتے جنہیں اللہ تمہاری طرف پاک روح کے ساتھ بھیجے گا۔یہ وہ ہوگا جو رب کے پاس سے نکلا اور میرا