انبیاء کا موعود — Page 57
اب آپ ان نشانیوں کو دیکھیں کہ جس آنے والے کے لئے وعدہ کیا جارہا ہے وہ موعود جس کو پتھر کیا گیا یہ بات زبور باب ۱۱۸ آیت ۴۲ میں بھی ملتی ہے کہ وہ پتھر جسے معماروں نے رو کیا کونے کا سرا ہو گیا۔اسی لئے حضرت عیسی " فرماتے ہیں کہ کیا تم نے الہی نوشتوں میں نہیں پڑھا " متنی باب ۲۱ ایک جگہ پیش گوئی کی گئی کہ یہ پھتر تمام دنیا پر پھیل جائے گا۔اور پہاڑ کی طرح بن جائے گا را اگر ہم غور کریں کہ آنے والے مقدس موعود کو پھر کیوں کہا گیا تو آپ نے دیکھا ہو گا کہ انسان کی زندگی میں پتھر کی بہت اہمیت ہے۔ایک تو یہ اپنی ذات میں سخت مضبوط ہوتا ہے اس کو توڑنا آسان نہیں۔پھر جو گھر پتھروں سے بنائے جائیں وہ انیٹوں کے گھروں سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں اور عمارت بناتے ہوئے ستون اور بیم کی مضبوطی کے لئے سیمنٹ میں پتھر ڈالے جاتے ہیں۔عمارتوں کی خوبصورتی کے لئے پتھر لگائے جاتے ہیں۔شہروں کی حفاظت کے لئے فصیل پتھر سے بنائی جاتی تھی دریاؤں پر پتھروں کی مدد سے بند باندھے جاتے ہیں جو طوفانوں کو روک لیتے ہیں پھر انسان کی تاریخ میں ایک دور پتھر کا زمانہ گزرا ہے جب انسان پھر سے شکار کرتا تھا۔اسی سے ہتھیار بناتا اسی سے گھر بناتا یا پھر پھر کے پہاڑوں میں غاروں کے اندر رہتا۔ہیتھر پر پتھر رگڑ کر آگ پیدا کرتا۔گویا اس کی زندگی میں پتھر بڑی قیمتی چیز تھی پتھر کو تراش کو رگڑ کر گھس کر معبود کی شکل دیتا۔یہ تو عام پتھروں کی بات ہو رہی ہے لیکن قیمتی پتھر بھی ہیں جیسے نیلم یاقوت زمرد - فیروزہ وغیرہ آنے والے موعود کو پھر اس لئے کہا گیا کہ وہ اپنے ایمان کی مضبوطی ، اللہ تعالیٰ کے احکامات پر ختی سے پابندی اور خدا تعالیٰ کی ذات سے عشق کرنے کے حسن میں وہ تمام پتھروں را دیباچه تفسیر القرآن صفحه ۹۶