انبیاء کا موعود

by Other Authors

Page 56 of 69

انبیاء کا موعود — Page 56

کے لئے تیار ہو سکے۔کیو نکہ حضرت عیسی فرماتے ہیں کہ جو اسے موسم پر میوہ پہنچا دیں یعنی خدا تعالیٰ کے دربار میں عبادت کے ، ریاضت کے ، اطاعت کے محبت کے میوے پہنچتے رہیں۔اور یہ شرف صرف اور صرف مسلمانوں کو حاصل ہے۔خدا کی اطاعت اس کی عبادت کو اپنی زندگی کا مقصد جانا۔ہر دور میں ، ہر زمانے میں ایسے با خدا انسان موجود رہے اور موجود ہیں جو خدا کے تھے اور اسی کی خاطر جیئے۔اسی کی خاطر مرے۔ان میں قطب غوث۔ولی - ابدال - صوفی۔شہید۔صدیق گزرے ہیں۔پھر ایسے افراد بھی ملتے ہیں جو دنیا میں رہتے ہوئے بھی ان کو اس دنیا کی پرواہ نہیں ہوتی۔نہ کھانے کی نہ پینے کی نہ پہچنے کی نہ سردی نہ گرمی نہ برسات کسی کی ہوش نہیں حیرت اور صرف خدا کی لگن اور اسی میں مگن گھومتے ہوئے نظر آتے ہیں یہ مجذوب کہلاتے ہیں۔قطب بغوث وغیرہ تو اصلاح کا کام کرتے ہیں۔اپنے گرد خدا کے عاشقوں کو جمع کرتے ہیں لیکن مجذوب کسی کی اصلاح نہیں کرتے بلکہ اپنی ذات میں خدا میں گم ہوتے ہیں۔مگر یہ سب رنگ برنگے پھل ہیں۔جو اس کے دربار میں ہمارے پیار آقا نے اپنی زندگی میں بھی پیش کئے اور بعد میں بھی پیش ہوتے رہتے ہیں۔(ب ) اب آپ متی کے اکیسویں باب میں آگے دیکھیں تو ملنا ہے کہ " جس سفر کو راجگیروں نے ناپسند کیا وہی کونے کا سرا ہوا۔یہ خداوند کی طرف سے ہے اور ہماری نظروں میں عجیب " متی باب ۲۱ آیت ۴۴ پھر فرماتے ہیں کہ دو میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت تم سے لے لی جائے گی اور ایک قوم کو جو اس کا میوہ لا دے ، دی جائے گی۔جو اس پتھر پر گرے گا چور ہو جائے گا۔اور جس پر یہ پتھر گرے گا اسے پیس ڈالے گا۔دمتی باب ۲۱ آیت ۴۵ - ۱۴۶