انبیاء کا موعود — Page 48
۵۴ کے شروع میں بسم اللہ نازل ہوئی اور خدا کا نبی خدا کا نام لے لے کر دنیا کو بتاتا رہا بلاتا رہا کہ سنو اے لوگو میں تم کو یہ تمام حکمت کی دانائی کی باتیں ایسے خدا کے نام سے سناتا ہوں جو بن مانگے دینے والا اور سچی محنت کو ضائع نہ کرنے والا ہے، گویا مرحکم خدا کے نام پر نازل ہوا۔ہر حکمت اسی کے نام پیہ۔ہر دانائی ہی کے نام سے۔ہر برائی سے روکا گیا تو اسی کے نام اسی کے کلمہ سے۔ہر اچھائی کے کرنے کی طرف توجہ دلائی تو اسی کے نام سے گویا خدا کے سوا کچھ نہیں صرف اور صرف اسی کا کلمہ ہے۔پھر آگے خدا نے کہا کہ جو میرے نام سے بتائی ہوئی بات نہ سنے گا تو میں اس کا حساب لوں گا۔تاریخ اسلام گواہی دیتی ہے کہ جس نے بھی اس کلام کو جھٹلایا یا تو کیا تو خدا نے اس کو رد کر دیا مثلاً ابو جہل جس کو مکہ کے لوگ اس کی حکمت اور دانانی کی وجہ سے ابوالحکم کہتے تھے یعنی دانائی کا باپ۔اس کی ہر بات پر حکمت ہوتی تھی۔اور سب کے لئے قابل قبول۔اسلام کے بعد سے جب اس نے مخالفت شروع کی تو وہی ابوالحکم ابوجبل بن گیا۔کیونکہ اس کی باتوں میں اب دانائی نہیں بنتی۔اس لئے وہ جہالت کا باپ بن گیا۔آخر جب خدا نے پکڑا تو جنگ بدر میں انتہائی ذلت کی موت مرا۔اور اسکی آخری خواہش کہ میری گردن کو لمبا کر کے کاٹنا کیونکہ میں سردار ہوں بھی پوری نہ کی گئی۔اور جڑ سے اس کا سرکاٹ دیا گیا۔گویا اس کلام کو نہ ماننے والوں کا انجام برا عبرتناک ہوا۔پھر خدا تعالیٰ نے پہچان بتائی کہ ہو نبی میرے نام سے کوئی بات کہے جسے کہنے کا حکم نہیں تو وہ نبی قتل کیا جائے گا۔“ اب ہم پیارے آقا کی زندگی کو دیکھتے ہیں تو نبوت کے بعد ۲۳ سال تک آپ زندہ رہے۔ہر موقع پر دشمن نے آپ کو مارنے کی کوششیں کیں کئی جنگیں