انبیاء کا موعود — Page 27
۳۳ یہ ایک نور تھا جو آپ کی ذات میں جگمگا رہا تھا اور اسی نوار کی کرنوں نے تمام لوگوں سے آپ کے اخلاق کی پاکیزگی کو منوالیا۔اس نور میں نبوت کے نور کو بھی شامل کر کے اس کی جگمگاہٹ کو اور بڑھا دیا۔پھر بتایا گیا کہ اس کے ہاتھ سے کرنیں نکلیں پھر وہاں بھی اس کی قدرت در پردہ تھی۔درپردہ سے مراد چھپی ہوئی۔اس نشانی میں خدا تعالیٰ کہ دیا ہے کہ یہ تو صرف اس کی ذات کے لئے نہیں تھا بلکہ اس کے ہاتھ سے کرنیں نکل کر دوسروں کو بھی نور بنا رہی تھیں۔وہ کیسے ؟ وہ اس طرح کہ جو بھی آپ کی بیعت کرتا۔آپ کے ہاتھ میں اپنا ہا تھ دیتا وہ اپنے اس معاشرے کی تمام برائیوں سے پاک ہو جانا تھا۔کیسا ہی گناہ گار ظالم جاہر کیوں نہ ہو جب ہاتھ کو پکڑتا تو اس کی دنیا ہی بدل جاتی۔وہ اس دنیا میں رہتے تو تھے مگر ان کے وجود اس نور کی وجہ سے خدا کی سچائی کو ظاہر کرنے والے وجود بن جاتے تھے۔ان نور کے ٹکڑوں میں آپ کو کہیں حضرت ابو بکر صدیق رینہ چمکتے ہوئے نظر آئیں گے تو کہیں حضرت عمر فاروق کہیں اپنے وجود کی روشنی حضرت عثمان رنہیں منعکس کر رہے ہیں تو کہیں حضرت علی نہیں۔سارے عرب میں صرف اور صرف یہی انسان تھے جن کے وجود کی چمک دوسرے اندھیرے وجودوں کو بھی روشنی عطا کر رہی تھی۔اب آپ دیکھیں اس دنیا میں کتنی روشنیاں یعنی کرنیں ہیں RAYS ہیں جن کو انسان نہیں دیکھ سکتا۔لیکن ان کے وجود سے انکار بھی نہیں کر سکتا۔تو میرے آقا کے ہاتھ کی کرنیں بھی ان کرنوں جیسی ہی تھیں جو موجود تھیں۔ان کے اثرات ظاہر ہوتے تھے اور ہو رہے ہیں مگر وہ نظر نہیں آتی تھیں۔نشانیوں میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ مری اس کے آگے چلی اور اس کے قدموں پر آتشی و با روانہ ہو گئی۔مری ایسی بیماری کو کہتے ہیں جس کی وجہ سے انسان مر جائے۔