انبیاء کا موعود — Page 16
۳۳ کے موقع پر مسلسل جنگ بینی دشمن مدینہ کے گرد پڑاؤ ڈالے ہوئے ہے۔اس کے چاق و چوبند دستے بار بار خندق عبور کرنا چاہتے ہیں کبھی ادھر سے کبھی ادھر سے۔ساتھ شدت کی سردی پھر بھوک اور افلاس ان تمام مصائب کے باوجود وہ یہ تمنا نہیں کرتے تھے کہ ہمیں وقت مل جائے تو کچھ دیر آرام کرلیں بلکہ سونا تو کجا اونگھنا بھی گوارا نہ تھا۔پھر نشانی بنائی کہ ان کا پیر پھسلتا نہیں تاریخ کے اس دور میں چلیں جہاں آپ نے دعوی کیا ہے۔چند افراد مکہ کے ایمان لاتے ہیں کچھ غلام چند جوان اور بڑے ہی غریب اور مفلس لوگ آپ کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔ان پر مشکلات کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔کسی کو پتھریلی زمین پر گھسیٹا جا رہا ہے۔(حضرت بلال کسی کے سینے پر بھاری پتھر رکھے ہوئے ہیں۔(ابو فکیہ ، کوئی انگاروں پر کوٹ رہا ہے (حضرت خباب ، کسی عورت کو بے شرمانہ طریق پر شہید کر دیا گیا ہے (حضرت سمیہ (رض) کسی کی آنکھیں مار کھاتے کھاتے ضائع ہوگئی ہیں۔(حضرت زنیرہ (نہ) لیکن ان تمام میں سے کوئی ایک نام بھی ایسا تاریخ پیش نہیں کر سکتی کہ وہ پھسل گئے ہوں۔خوف سے ڈر کر بجھے ہٹ گئے ہوں اس سیدھی راہ سے۔بلکہ دوہ ہر تکلیف پر اور مضبوط ہو جاتے تھے ایمان میں۔ہر مشکل ان کو خدا اور اس کے رسول سے قریب کر دیتی ہے اور بعد کے زمانے میں جب اسلام تیزی سے پھیلا تو اس وقت تو اتنی سختی نہ تھی پھر بھی ایک بھی مثال نہیں ملتی کہ جو پیچھے دل سے ایمان لایا ہو۔وہ ٹوٹ گیا ہو۔جبکہ دوسہ ہے انبیاء کی امتیں اپنے نبیوں سے سوال پر سوال کرتی نظر آتی ہیں۔مشکل وقت میں ساتھ دینے سے انکار کر دیتی ہیں۔حضرت موسیٰ کو ان کی قوم