انبیاء کا موعود

by Other Authors

Page 36 of 69

انبیاء کا موعود — Page 36

مشکل نہ ہو۔اگر بہت ساری دوائیں شربت کیپسول وغیرہ دیئے جائیں تو مریض پریشان ہو جاتا ہے کہ کس طرح یاد رکھا جائے کہ کونسا صبح کو نسا دو پہر کوئی کھانے سے پہلے کوئی بعد اور کوئی درمیان ہیں۔اسی طرح بہت ساری دواؤں سے بھی علاج ممکن نہیں ہوتا بلکہ اچھا حالج یعنی ڈاکٹر آسان اور سستی دوا تجویز کرتا ہے جس کو حاصل کرنا اور سات کرنا بھی آسان ہو۔اس بات کو سمجھ کر جب ہم اسلام کی تعلیم کو لیتے ہیں تو عربوں میں بہت سی اخلاقی برائیاں تھیں۔کردار کی کمزوریاں نہیں لیکن میرے پیارے آقا م نے ان تمام امراض کی جڑ پر ہاتھ ڈالا۔کہ اکثر خرابیاں بلکہ تمام شرک کی وجہ سے پیدا ہوئی تھیں۔پھر خدا کو ایک نہ ماننے کی وجہ سے مرض پھیل گیا اس لئے اس کا علاج یہ ہے کہ ایک خدا پر ایمان لاؤ۔یعنی لا الہ الا اللہ کہ خدا کے سوا کوئی نہیں۔جب اس کے سوا کوئی نہیں تو پھر رزق کون دیگا۔زندگی موت کا سبب کیا ہو گا یعزت دولت کہاں سے ملینگی۔اگر دکھی ہوں گے تو کون دیکھے گا۔فریاد کون سنے گا۔تو تعلیم دی وہ رحمن ہے تمہاری تمام بنیادی ضروریات جو زندگی کیلئے لازمی اور ضروری ہیں وہ بن مانگے دیتا ہے۔پھر رہیم ہے۔یعنی جو بھی عمل کرد گے اس کا بدلہ ضرور ملے گا۔ری العالمین ہے۔پالتا ہے ترقی دیتا ہے۔مالک ہے۔ایسا طاقتور بادشاہ ہے کہ جب حساب کرے گا تو اس میں کوئی نا انصافی نہیں ہوگی۔کیونکہ اس کو کسی کی گواہی کی ضرورت نہیں بلکہ وہ خود عالم الغیب ہے۔یعنی اس کی نظر سے کوئی چیز کوئی بات پوشیدہ نہیں۔پھر رازق ہے۔رزق دیتا ہے حتی القیوم ہے۔زندگی دیتا ہے اور اس کو قائم رکھتا ہے۔قادر ہے۔قدرت رکھتا ہے کہ جس کو چاہے عزت دے جس کو چاہے ذلیل کرے۔یہی حال دوسری نعمتوں کا ہے۔وہ ہر دکھی کو دیکھتا