انبیاٴ کرام علیہم السلام کی دعائیں

by Other Authors

Page 7 of 30

انبیاٴ کرام علیہم السلام کی دعائیں — Page 7

14 13 ان ( ناموں ) سے پکارا کرو۔- قُلْ مَا يَعْبَوابِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ = فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامَاً۔(25: الفرقان : 78) ترجمہ: تو کہہ دے کہ اگر تمہاری دعا نہ ہوتی تو میرا ربّ تمہاری کوئی پرواہ نہ کرتا۔پس تم اُسے جھٹلا چکے ہو سو ضرور اس کا وبال تم سے چمٹ جانے والا ہے۔م - أَمَّنْ يُجيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ ءَ إِلهُ مَّعَ اللهِ ط قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ۔(27: النمل: 63) ترجمہ : یا ( پھر ) وہ کون ہے جو بے قرار کی دعا قبول کرتا ہے جب وہ اسے پکارے اور تکلیف دور کر دیتا ہے اور تمہیں زمین کے وارث بناتا ہے۔کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور ) معبود ہے؟ بہت کم ہے جو تم نصیحت پکڑتے ہو۔حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلّم کے دعا کے متعلق ارشادات ہے۔حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ بڑا حیا والا ہے ، بڑا کریم اور سخی ہے۔جب بندہ اُس کے حضور دونوں ہاتھ بلند کرتا ہے تو وہ ان کو خالی اور ناکام واپس کرنے سے شرماتا ( ترندی کتاب الدعوات) ہے۔یعنی صدق دل سے مانگی ہوئی دعا کو وہ رد نہیں کرتا بلکہ قبول فرماتا ہے۔ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ۔انسان اپنے رب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدہ میں ہو اس لئے سجدہ میں بہت دعا کیا کرو۔“ (مسلم کتاب الصلوۃ باب ما يقال في الركوع والسجو دص 181 حديقة الصالحين ص 135) - حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب تم دعا کرو تو اس یقین کے ساتھ کرو کہ خدا تمہاری دعا ضرور سنے گا اور یاد رکھو کہ خدا ایسے دل سے نکلی ہوئی دعا ہر گز نہیں سنتا جو غافل اور بے پروا ہو۔(صحیح بخاری جلد دوم) جو یہ چاہتا ہے کہ سختی کے موقعوں پر اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرے