انبیاٴ کرام علیہم السلام کی دعائیں — Page 21
42 41 کی بیوی کو اس کی خاطر تندرست کر دیا یقیناً وہ نیکیوں میں بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے اور ہمیں چاہت اور خوف سے پکارا کرتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی سے جھکنے والے تھے۔(21: الانبیا :91) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔میرے ساتھ دنیا میں ایک بھی نہیں تھا۔جب کہ خدا نے مجھے یہ دعا سکھائی۔(تذکرہ : 196) حضرت عیسی علیہ السلام کی دعا حضرت موسیٰ سے چودہ سو سال بعد پیدا ہوئے۔آپ بنی اسرائیل کی طرف مبعوث کئے گئے۔آپ کی بعثت کی غرض تو رات کی تعلیمات کو نمایاں کرنا تھا۔یہود نے آپ کو بے انتہا دکھ دئے حتی کہ صلیب پر جان سے مارنے کی کوشش کی۔جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچا لیا۔اور آپ بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کی تلاش میں سفر کرتے ہوئے کشمیر پہنچے جہاں ایک سو بیس سال کی عمر میں وفات پائی۔(کنز العمال جلد 6 ص 120 از علاؤالدین علی متقی دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباد 1312ھ ) اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاص طور پر دعائیں کرنے کا ارشاد فرمایا تھا وصانى بالصلواۃ۔مجھے دعا کا حکم دیا گیا ہے قرآن کریم میں سورۃ المائدہ آیات 114,113 میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام سے اُن کے حواریوں کا یہ مطالبہ درج فرمایا ہے کہ ” کیا تیرے رب کے لئے ممکن ہے کہ ہم پر آسمان سے (نعمتوں ) کا دستر خوان اُتارے؟ اس پر حضرت عیسی علیہ السلام نے دعا کی۔که اللَّهُمَّ رَبَّنَا اَنْزِلْ عَلَيْنَا مَا ئِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيدَلًا وَّلِنَا وَ آخِرِنَا وَ آيَةً مِّنْكَ ، وَارْزُقْنَا وَ أَنْتَ خَيْرُ الرَّزِقِينَ ) (5:المائدہ:115) ترجمہ:- اے اللہ ہمارے رب! ہم پر آسمان سے (نعمتوں کا ) دستر خوان اُتار جو ہمارے اوّلین اور ہمارے آخرین کے لئے عید بن جائے اور تیری طرف سے ایک عظیم نشان کے طور پر ہو اور ہمیں رزق عطا کر اور تُو رزق دینے والوں میں سب سے بہتر ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی مگر اس شرط کے ساتھ کہ 'جو کوئی تم میں سے ناشکری کرے گا تو میں اسے ضرور ایسا عذاب دوں گا جو تمام جہانوں میں کسی اور کو نہیں دوں گا۔“ (المائدہ: 116) حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی دعائیں الله نور السموات والارض نے جب اہل عالم پر اپنے نور وصفات ظاہر کرنے کا ارادہ فرمایا تو فخر مرسلین رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو پیدا فرمایا۔آپ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ نے خواب میں دیکھا کہ اُن کے جسم سے ایک چراغ طلوع ہوا جس کی روشنی سے شام کے محل تک چمک اُٹھے (الخصائص الکبرئی اردو جلد اول ص 21 571ء میں طلوع ہونے والے اس سراج منیر کو اللہ تعالیٰ نے کامل شریعت قرآن پاک عطا فرمائی اور سب نبیوں سے افضل قرار دیا۔آپ کو لولاک لما خلقنا الافلاک کا اعزاز بھی حاصل تھا۔اس جلیل القدر نئی کامل کو عالمین کی اصلاح کا فریضہ سونپا گیا۔