انبیاٴ کرام علیہم السلام کی دعائیں — Page 19
38 88 37 سلیمان کو اللہ تعالیٰ نے نبوت اور وسیع سلطنت سے نوازا تھا۔بہت دانا اور فہم و و فراست رکھنے والے نبی تھے۔بنی اسرائیل کے زوال کو دیکھ رہے تھے قوم دنیا داری اور عیش وعشرت میں پڑ گئی تھی۔آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔رَبِّ اغْفِرْ لِي وَ هَبْ لِي مُلْكَالًا يَنْبَغِي لَاحَدٍ مِنْ بَعْدِي إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ (38: ص: 36) ترجمہ: اے میرے ربّ! مجھے بخش دے اور مجھے ایک ایسی سلطنت عطا کر کہ میرے بعد اُس پر اور کوئی نہ بچے۔یقیناً تو ہی بے انتہا عطا کرنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور آپ کی سلطنت کو پہاڑی علاقوں تک وسیع کر دیا۔سلطنت کی مضبوطی کے لئے جہاز اور تجارتیں کرنا سکھا دیا۔قوی طاقت ور لوگ سلطنت میں شامل کردئے۔تا کہ آئندہ اگر لوگ نالائق بھی ہوں تو کچھ عرصہ تک حضرت سلیمان علیہ السلام کا نیک اثر قائم رہے اس پر آپ نے اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا۔جو بجائے خود ایک دعا ہے۔- رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَ أَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَهُ وَ اَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّلِحِينَ۔(27: النمل: 20) ترجمہ : اے میرے ربّ! مجھے توفیق بخش کہ میں تیری نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر کی اور میرے ماں باپ پر کی اور ایسے نیک اعمال بجالاؤں جو تجھے پسند ہوں۔اور تو مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیکو کار بندوں میں داخل حضرت یونس علیہ السلام کی دعا آپ کے والد کا نام متی تھا۔آپ نینوا ( عراق ) کی طرف مبعوث کئے گئے ایک مدت تک اپنی قوم کو نصائح کرتے رہے مگر انہوں نے شرک اور کفر سے تو بہ کی کی۔اس پر آپ نے انہیں عذاب کی خبر دی۔جس سے وہ ڈر گئے تو اللہ تعالیٰ نے عذاب ٹال دیا۔صرف یہی قوم تھی جو عذاب کے آثار دیکھ کر ایمان لے آئی۔حضرت یونس نے جب دیکھا کہ اُن کی انداری پیشگوئی پوری نہیں ہوئی تو چونکہ ان کو یہ علم نہیں تھا کہ انذار کی پیشگوئیاں اللہ تعالیٰ گریہ و زاری کے نتیجہ میں ٹال دیا کرتا ہے اس لئے وہ رُوٹھ کر سمندر کی طرف چلے گئے جہاں ان کو وھیل مچھلی نے پہلے نگلا اور پھر زندہ ہی اُگل دیا۔اس اندھیرے کے وقت ان کے دل سے یہ دعا نکلی تھی کہ اے اللہ ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔تو پاک ہے اور میں یقیناً ظلم کرنے والوں میں سے تھا۔( ترجمہ ونوٹ حضرت خلیفۃ امسیح الرابع صفحہ 555) ٣- لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَنَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّلِمِينَ (21: الانبياء: 88) ترجمہ: کوئی معبود نہیں تیرے سوا۔تو پاک ہے۔یقیناً میں ہی ظالموں میں سے تھا۔اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی اور اُن کو غم سے نجات دی۔حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ کر