انبیاٴ کرام علیہم السلام کی دعائیں — Page 10
20 20 19 قبولیت دعا کی شرائط قبولیت دعا کے لئے چند شرائط ہیں جن کا ہونا لازم ہے۔1 - قبولیت دعا کے لئے یقین کامل ، توجہ اور مکمل یکسوئی ہونی چاہیے۔2- دعا کے مؤثر ہونے کے لئے قلب ، ذہن اور خیالات کا پاک ہونا بہت ضروری ہے۔3- بندے میں عاجزی اور خوف خدا ہونا بھی لازم ہے۔جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔”اپنے رب کو یاد کر و اور خوف کے ساتھ۔“ 4- دعا کا تنہائی اور سکون کی جگہ پر کرنا زیادہ بہتر ہے۔تاکہ دل و جان سے خدا کے حضور حاضر ہوسکیں۔5- دعا کرتے وقت خشوع و خضوع اور رقت طاری ہونا قبولیت دعا کے لئے ضروری ہے۔6- دعا کے لئے جگہ ، بدن اور بستر پاک و صاف ہونا چاہیے۔کیونکہ فرشتے صفائی کو پسند کرتے ہیں اور پھر بندے کے قریب ہو جاتے ہیں اور گندگی سے دُور بھاگتے ہیں۔7- ایک حدیث میں ہے کہ دعا آسمان اور زمین کے درمیان ہی رکی رہتی الله ہے او پر نہیں جا سکتی یعنی خدا تک نہیں پہنچتی جب تک آنحضرت ﷺ پر اول اور آخر درود نہ بھیجا جائے۔پس ہمیں چاہیے کہ دعا کرنے سے پہلے اور آخر میں درود شریف پڑھیں ( حديقة الصالحين ص 135) تا کہ ہماری دعا مؤثر ہو کر قبول ہو۔انبیاء کرام علیہم السلام کی دُعائیں انبیاء کرام علیہم السلام جو غیر معمولی کام کے لئے مقرر کئے جاتے ہیں اور عام انسانی قویٰ سے بالاتر قوت کے ساتھ کام کرتے ہیں اُن کے پیچھے استجابت دعا کا اعجاز ہی کارفرما ہوتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود فرماتے ہیں۔اعجاز کی بعض اقسام کی حقیقت بھی دراصل استجابت دعا ہی ہے اور جس قدر ہزاروں معجزات انبیا سے ظہور میں آئے ہیں یا جو کچھ اولیاء ان دنوں تک عجائب کرامات دکھلاتے رہے اس کا اصل منبع یہی دعا ہے۔اور اکثر دعاؤں کے اثر سے ہی طرح طرح کے خوارق قدرت قادر کا تماشا دکھلا رہے ہیں وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گزرا کہ لاکھوں مردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہو گئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الہی رنگ پکڑ گئے اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے اور گونگوں کی زبان پر الہی معارف جاری ہوئے اور دنیا میں یک دفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سُنا کچھ جانتے ہو کہ وہ کیا تھا؟ وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دُنیا میں شور مچا دیا اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اس اُمی بے کس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں۔اللهم صل و سلم و بارک علیه و اله بعدد همه وَ