حضرت سیّدہ امتہ الحی بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 16 of 33

حضرت سیّدہ امتہ الحی بیگم صاحبہؓ — Page 16

حضرت سیدہ امتہ الحی صاحبہ 16 ایک ذاتی ملازمہ جھٹ سے میرے پاؤں کے پاس بیٹھ گئی اور کہنے لگی میں یہاں بیٹھوں گی یہ میری بی بی ہیں۔اس کی یہ بات سن کر ابا جان کہنے لگے اس کی ماں کے نوکروں کو بھی اُن سے بہت پیار تھا۔“ چھوٹی سی بات پر حضور کو حضرت سید ہ کی یاد آئی۔اُن کو قادیان میں یتامیٰ اور بیوگان کی دعوتوں کا بھی بہت شوق تھا اور یہ دعوتیں با قاعدہ لجنہ کے انتظام کے تحت ہوتیں۔جب آپ فوت ہو گئیں تو آپ کو یاد کر کے آنسو بہانے والوں میں غریب ، خادم ، ضرورت مند لا چار لوگ بہت تھے ، وہ سمجھتے تھے اُن کی ماں فوت ہوگئی ہے۔آپ بہت مہمان نواز تھیں، مہمانوں کا خاص خیال رکھتیں ، جب پتہ لگتا کہ کوئی مہمان آیا ہے اور آپ کھانا کھا رہی ہوتیں تو فوراً ہی اپنے آگے کا کھانا اُٹھوا کر کہیں کہ مائی پہلے مہمانوں کو کھانا کھلا او بعد میں ہمیں دینا۔محترمہ امتہ الحفیظ صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب لکھتی ہیں کہ ایک دفعہ ڈاکٹر صاحب نے رمضان کے کچھ روزے قادیان میں رکھنے کا ارادہ کیا۔ڈاکٹر صاحب کے ایک بھائی، بھابی اور دوسرے بھائی کا بیٹا بھی تیار ہو گئے۔حضرت سیدہ نے سُنا تو کہا کہ پٹیالے والی آپا کو تو میں اپنا کمرہ دوں گی۔اپنا کمرہ ہمیں دے دیا اور خوب خاطر خدمت