حضرت سیّدہ امتہ الحی بیگم صاحبہؓ — Page 24
حضرت سیدہ امتہ الحی صاحبہ 24 رہیں اللہ تعالیٰ مجھے معاف کرے۔پھر پیاری جماعت احمدیہ کو سلامتی کا تحفہ دیا۔پھر اپنے محبوب شوہر سے درد بھرے لہجے میں کہا ” مجھے آپ کا چہرہ نظر نہیں آرہا میرے سامنے ہو جا ئیں سامنے ہو گئے تو نظریں گویا آپ پر جم گئیں تکلیف میں زیادتی کی وجہ سے بے چینی بھی تھی۔حضور نے اپنا سہارا دے کر بٹھا یا بڑے درد سے سیدہ امتہ الہی نے ایک جملہ کہا ”اے خدا ! میں نے سب کچھ تجھے سونیا اب تو مجھے اپنے دامن محبت میں چھپالے میں کچھ بھی نہیں حضور نے آہستہ سے فرمایا تم خدا کے فضل سے بڑی پکی مومنہ ہو اور یہ جملہ کئی بار کہا۔(17) 10 دسمبر کی صبح ساری رات تیمارداری میں جاگ کر گزار نے والے شوہر کی ذراسی آنکھ لگتی ہے تو ہلکی سی آہٹ پر چپ کراتی ہیں۔تمہیں پتہ نہیں کہ میاں سورہے ہیں“ میاں کی نیند میں ذرا سا خلل برداشت نہ کر سکنے والی کے نا نہ توڑ کر جانے پر میاں کا جو حال ہو گا کون دیکھے گا۔صبح اپنے بچوں کو بلایا، پیار، کیا خدا حافظ کہا۔حضور بیت الدعا میں مولائے حیی و قیوم کے حضور گڑ گڑا رہے تھے اور سیدہ اپنے اللہ کو اس طرح پکار رہی تھیں کہ اللہ میاں اب جلدی بلا لو ہائے دیر کیوں ہورہی ہے اور اللہ تعالیٰ نے دیر نہیں کی اپنے