حضرت سیّدہ امتہ الحی بیگم صاحبہؓ — Page 22
حضرت سیدہ امتہ انکی صاحبہ 22 اُستاد کے پاس جانا چاہیئے اس لئے آپ وقت کا تعین کر دیں یہ خود آیا 66 کریں گی۔“ اُمی کا حکم تھا کہ بڑی عمر کی ملازمہ یا وہ خواتین جن کا ہمارے گھر میں آنا جانا رہتا تھا اُن کا ادب کیا جائے اور نام کے ساتھ آپا کہا جائے۔خود بھی بڑی عمر کی خواتین کا احترام کرتی تھیں اور نام لے کر نہ پکارتی تھیں۔گھر کے تمام ملازموں سے بھی عزت سے پیش آتیں اور اُن کا بہت خیال رکھتیں۔ہمیں ہمیشہ سچ بولنے کی تلقین کرتیں ، جھوٹ ان کی نگاہوں میں بزدلی،خوف اور گناہ کے سوا کچھ نہ تھا۔ہمیں اپنے گھروں میں بھی اُمی کی اجازت کے بغیر جانا نہ ہوتا تھا۔‘ (16) 1924ء میں حضرت مصلح موعود یو۔کے تشریف لے گئے وہاں ایک مذہبی کا نفرنس تھی اور بیت الفضل کا سنگ بنیا د رکھنا تھا۔10 نومبر 1924 ء کو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیٹا مرز اخلیل احمد عطا فر مایا۔مگر حضرت سید و صاحبہ شدید بیمار ہو گئیں۔بیماری کی اطلاع سنتے ہی حضور بہت پریشان ہوئے۔24 نومبر کو قادیان پہنچے۔پہلے بہشتی مقبرے دعا کے لئے تشریف لے گئے پھر حضرت اماں جان کو السلام علیکم کہنے حاضر ہوئے۔بیماری سے نڈھال بیوی کی نظریں راستے پر لگی تھیں۔ایک کاغذ پر ایک شعر لکھا۔