اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 52 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 52

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نشانات، وحی، الہامات اور تعلق باللہ کی اہمیت جو ہمارے دلوں میں بھی ایمان کی کرنوں کو روشن تر کرے، کی اہمیت بیان فرماتے ہوئے اپنے انداز میں آپ نے یوں فرمایا کہ حضرت عیسی بیشک زندہ آسمان پر بیٹھے رہیں۔اُن کا آسمان پر زندہ بیٹھے رہنا اتنا نقصان دہ نہیں ہے جتنا خدا تعالیٰ کا ہمارے دلوں میں مردہ ہو جانا نقصان دہ ہے۔پس کیا فائدہ اس بات کا کہ تم حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات پر زور دیتے رہو جبکہ خدا تعالیٰ کو لوگوں کے دلوں میں تم ماررہے ہو اور اُسے زندہ کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔خدا تعالیٰ تو حی و قیوم ہے اور کبھی نہیں مرتا مگر بعض انسانوں کے لحاظ سے وہ مر بھی جاتا ہے۔پس خدا تعالیٰ نہیں مرتا مگر جب کوئی انسان اُسے بھلا دیتا ہے تو اُس کے لحاظ سے وہ مرجاتا ہے۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ عجیب بات ہے کہ ہمارے علماء حضرت عیسی کو مارنے کی کوشش کرتے ہیں مگر ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کو زندہ کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔وہ روح پیدا نہیں کرتے جس سے اللہ تعالیٰ کا فہم اور ادراک پیدا ہو۔ہماری اصل کوشش خدا تعالیٰ کو زندہ کرنے کی اور اُس سے زیادہ تعلق پیدا کرنے کی ہونی چاہئے۔اگر خدا سے ہمارا زندہ تعلق ہے تو چاہے عیسی کو زندہ سمجھنے والے جتنا بھی شور مچاتے رہیں، ہمارے ایمانوں میں کبھی بگاڑ پیدا نہیں ہوگا کیونکہ خدا ہر قدم پر ہمیں سنبھالنے والا ہوگا۔پس بیشک وفات مسیح، ختم نبوت یا دوسرے مسائل جو ہیں جن کا اعتقاد سے تعلق ہے اُن کا علم ہونا تو بہت ضروری ہے اور ان پر دلیل کے ساتھ قائم رہنا بھی ضروری ہے، بغیر دلیل کے نہیں، لیکن عملی اصلاح کے لئے ہمیں خدا تعالیٰ سے تعلق جوڑنا ہو گا اور اس کے لئے وہ ذرائع اپنانے ہوں گے جو اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں دکھائے۔ہمیں اپنے قول و فعل کے تضاد کو ختم کرنا ہو گا۔جو ہم دوسروں کو کہیں، اُس کے بارے میں اپنے بھی جائزے لیں کہ کس حد تک ہم اس پر عمل کر رہے ہیں۔مجھے قادیان سے کسی عالم نے لکھا کہ آجکل کھلے جلسے جو مخالفین کے جواب دینے کے لئے پہلے ہندوستان میں منعقد ہوتے تھے، اب نہیں ہوتے۔ہم ان جلسوں میں ایسے تابڑ توڑ حملے مخالف علماء ۵۲