اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 7 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 7

پس ایسا دھوکہ دینے والے جو بظاہر تو اپنے ذاتی معاملات میں یہ کہتے ہیں کہ ہماری اپنی dealing ہے، بزنس ہے، کاروبار ہے جو ہم کر رہے ہیں، جماعت کا اس سے کیا واسطہ؟ لیکن آخر کار وہ جماعت پر بھی حرف لانے کا مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔جماعت کو بدنام کرنے کے مرتکب ہورہے ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی اور دیانت کی مثالیں : حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعوے سے پہلے کا ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ خاندانی جائداد کے متعلق ایک مقدمہ تھا۔اور جگہ بتائی کہ اس مکان کے چبوترے کے سامنے ایک تھڑا بنا ہوا تھا، جہاں خلافت ثانیہ میں صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر ہوا کرتے تھے، اب تو قادیان میں کچھ تبدیلیاں ہو گئی ہیں، دفاتر وہاں سے چلے گئے ہیں۔فرماتے ہیں کہ اس چبوترے کی زمین دراصل ہمارے خاندان کی تھی ،مگر اس پر دیرینہ قبضہ اُس گھر کے مالکوں کا تھا جن کا ساتھ ہی گھر تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بڑے بھائی نے اسے حاصل کرنے کے لئے مقدمہ چلایا اور جیسا کہ دنیا داروں کا طریق ہے، ایسے مقدموں میں جھوٹی سچی گواہیاں مہیا کرتے ہیں تا کہ جس کو وہ حق سمجھتے ہیں وہ انہیں مل جائے۔آپ کے بڑے بھائی نے بھی ایسا ہی کیا اور گواہیاں بہت ساری لے کر آئے۔گھر کے مالکوں نے کہا ہمیں کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے، ان کے چھوٹے بھائی کو بلا کر گواہی لی جائے اور جو وہ کہ دیں ہمیں منظور ہوگا۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں کہا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عدالت میں بلایا گیا اور آپ سے پوچھا گیا کہ کیا ان لوگوں کو اس راستے سے آتے جاتے اور یہاں بیٹھے آپ عرصے سے دیکھ رہے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ ہاں میں دیکھ رہا ہوں۔عدالت نے مخالف فریق کے حق میں فیصلہ دے دیا۔آپ کے بھائی آپ پر سخت ناراض ہوئے مگر آپ نے فرمایا کہ جب واقعہ یہ ہے تو میں کیسے انکار کروں۔اسی طرح آپ کے خلاف ایک مقدمہ چلا کہ آپ نے ڈاکخانے کو دھوکہ دیا ہے۔یہ قانون