اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 8 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 8

تھا کہ اگر کوئی شخص کسی پیکٹ میں، پارسل میں کوئی خط ڈال دے، چٹھی ڈال دے تو خیال کیا جاتا تھا کہ اُس نے ڈاکخانہ کو دھوکہ دیا ہے اور پیسے بچائے ہیں۔اور یہ ایک فوجداری جرم تھا جس کی سزا قید کی صورت میں دی جا سکتی تھی۔آپ نے ایک پیکٹ میں یہ مضمون پریس کی اشاعت کے لئے بھیجا تھا اور اس میں ایک خط بھی ڈال دیا تھا جو اس اشتہار یا مضمون کے متعلق ہی تھا، کچھ ہدایات تھیں اور اسے آپ اُس کا حصہ ہی سمجھتے تھے، نقصان پہنچانا مقصد نہیں تھا۔پریس کے مالک نے جو غالباً عیسائی تھے، یہ رپورٹ کر دی۔آپ پر مقدمہ چلایا گیا۔وکیل نے کہا کہ مقدمہ کرنے والوں کی مخالفت تو واضح ہے اور گواہیوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔آپ انکار کر دیں کہ میں نے نہیں ڈالا تو کچھ نہیں ہو گا۔آپ نے فرمایا کہ یہ نہیں ہوسکتا۔جو میں نے بات کی ہے، اُس کا انکار کیسے کر سکتا ہوں۔چنانچہ جب عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت نے پوچھا آپ نے کوئی ایسا مضمون ڈالا تھا ؟ تو آپ نے فرمایا کہ ہاں ڈالا تھا لیکن کسی دھو کے کے لئے نہیں بلکہ خط کو مضمون کا حصہ ہی سمجھا تھا۔اس سچائی کا عدالت پر اتنا اثر ہوا کہ اُس نے کہا کہ ایک اصطلاحی جرم کے لئے ایک سچے اور راستباز شخص کو سز انہیں دی جاسکتی اور بری کر دیا۔آپ فرماتے ہیں کہ انبیاء دنیا میں آ کر راستی اور سچائی کو قائم کرتے ہیں اور ایسا نمونہ پیش کرتے ہیں کہ دیکھنے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں آکر کوئی تو ہیں اور مشین گئیں ایجاد نہیں کی تھیں، بینک جاری نہیں کئے تھے یا صنعت و حرفت کی مشینیں ایجاد نہیں کی تھیں۔پھر وہ کیا چیز تھی جو آپ نے دنیا کو دی اور جس کی حفاظت آپ کے ماننے والوں کے ذمہ تھی۔وہ سچائی کی روح اور اخلاق فاضلہ تھے۔یہ پہلے مفقود تھی۔آپ نے پہلے اُسے کمایا اور پھر یہ خزانہ دنیا کو دیا۔اور صحابہ اور اُن کی اولادوں اور پھر اُن کی اولادوں کے ذمہ یہی کام تھا کہ ان چیزوں کی حفاظت کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب پہلی وحی نازل ہوئی تو آپ یہ حکم سن کر کہ ساری دنیا کو خدا تعالیٰ کا کلام پہنچا ئیں، کچھ گھبرا گئے۔اس لئے کہ آپ اس عظیم الشان ذمہ داری کو کس طرح پورا کریں گے؟ اس گھبراہٹ میں آپ گھر آئے۔حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے