اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 61 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 61

ایسے ہیں وہ یاد رکھیں کہ وہ چند روزہ مہمان ہیں۔جب تک عمدہ نمونہ نہ دکھا ئیں۔میں کسی کے سبب سے اپنے اوپر اعتراض لینا نہیں چاہتا۔ایسا شخص جو میری جماعت میں ہوکر میرے منشاء کے موافق نہ ہو، وہ خشک ٹہنی ہے۔اُس کو اگر باغبان کاٹے نہیں تو کیا کرے۔خشک ٹہنی دوسری سبز شاخ کے ساتھ رہ کر پانی تو چوستی ہے، مگر وہ اُس کو سر سبز نہیں کر سکتی، بلکہ وہ شاخ دوسری کو بھی لے بیٹھتی ہے۔پس ڈرو میرے ساتھ وہ نہ رہے گا جو اپنا علاج نہ کرے گا۔یہ حوالہ ہم پہلے بھی کئی دفعہ سنتے ہیں، پڑھتے ہیں لیکن اس حوالے کے ساتھ ملا کر دیکھیں جس میں آپ نے درد کا اظہار کیا ہے کہ کئی دن سے مجھے اور کسی چیز کا ہوش ہی نہیں سوائے اس بات کے کہ عملی اصلاح ہو جائے جماعت کی ، تو پھر ایک خاص فکر پیدا ہوتی ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ کس وقت کوئی آدمی سچا مؤمن کہلا سکتا ہے؟ فرمایا کہ : میں کھول کر کہتا ہوں کہ جب تک ہر بات پر اللہ تعالیٰ مقدم نہ ہو جاوے اور دل پر نظر ڈال کر وہ نہ دیکھ سکے کہ یہ میرا ہی ہے، اس وقت تک کوئی سچا مومن نہیں کہلا سکتا۔ایسا آدمی تو عرف عام کے طور پر مؤمن یا مسلمان ہے۔جیسے چوہڑے کو بھی مصلی یا مومن کہہ دیتے ہیں۔مسلمان وہی ہے جو أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلهِہ کا مصداق ہو گیا ہو۔وجہ منہ کو کہتے ہیں مگر اس کا اطلاق ذات اور وجود پر بھی ہوتا ہے۔پس جس نے ساری طاقتیں اللہ کے حضور رکھ دیں ہوں وہ سچا مسلمان کہلانے کا مستحق ہے۔مجھے یاد آیا کہ ایک مسلمان نے کسی یہودی کو دعوت اسلام کی تو مسلمان ہو جا۔(مسلمان جو تھا وہ دعوت اسلام دینے والا ) خود فسق و فجور میں مبتلا تھا۔یہودی نے اس فاسق مسلمان کو کہا کہ تو پہلے اپنے آپ کو دیکھ اور تو اس بات پر مغرور نہ ہو کہ تو مسلمان کہلاتا ہے۔خدا تعالیٰ اسلام کا مفہوم چاہتا ہے نہ نام اور لفظ۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : یا درکھو کہ صرف لفاظی اور لسانی کام نہیں آسکتی، جب تک کہ عمل نہ ہو۔محض باتیں عند اللہ کچھ بھی وقعت نہیں رکھتیں چنانچہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے: كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا