اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 60
: مجلس میں۔ان میں سے چند ایک اس وقت میں پیش کرتا ہوں۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ جماعت کے باہم اتفاق و محبت پر میں پہلے بہت دفعہ کہہ چکا ہوں کہ تم باہم اتفاق رکھو اور اجتماع کرو۔خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہی تعلیم دی تھی کہ تم وجود واحد رکھور نہ ہو انکل جائے گی۔نماز میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر کھڑے ہونے کا حکم اسی لیے ہے کہ باہم اتحاد ہو۔برقی طاقت کی طرح ایک کی خیر دوسرے میں سرایت کرے گی۔اگر اختلاف ہو، اتحاد نہ ہو، تو پھر بے نصیب رہو گے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آپس میں محبت کرو اور ایک دوسرے کے لیے غائبانہ دعا کرو۔( اب ہمیں یہ دیکھنے کی ، جائزہ لینے کی ضرورت ہے، کتنے ہیں جو ایک دوسرے کے لئے غائبانہ دعا کرتے ہیں ) اگر ایک شخص غائبانہ دعا کرے تو فرشتہ کہتا ہے کہ تیرے لیے بھی ایسا ہی ہو۔کیسی اعلیٰ درجہ کی بات ہے۔اگر انسان کی دعا منظور نہ ہو، تو فرشتہ کی تو منظور ہوتی ہے۔میں نصیحت کرتا ہوں اور کہنا چاہتا ہوں کہ آپس میں اختلاف نہ ہو۔فرمایا میں دو ہی مسئلے لے کر آیا ہوں۔اول خدا کی توحید اختیار کرو۔دوسرے آپس میں محبت اور ہمدردی ظاہر کرو۔وہ نمونہ دکھلاؤ کہ غیروں کے لیے کرامت ہو۔یہی دلیل تھی جو صحابہ میں پیدا ہوتی تھی۔كُنْتُمْ أَعْدَاء فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ ( آل عمران : ۱۰۴) یا درکھو! تالیف ایک اعجاز ہے۔یاد رکھو! جبتک تم میں ہر ایک ایسا نہ ہو کہ جو اپنے لیے پسند کرتا ہے وہی اپنے بھائی کے لیے پسند کرے، وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔وہ مصیبت اور بلا میں ہے۔اس کا انجام اچھا نہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں : یا درکھو بغض کا جدا ہونا مہدی کی علامت ہے اور کیا وہ علامت پوری نہ ہوگی۔وہ ضرور ہوگی۔تم کیوں صبر نہیں کرتے۔جیسے طبی مسئلہ ہے کہ جبتک بعض امور بعض امراض میں قلع قمع نہ کئے جاویں، مرض دفع نہیں ہوتا۔میرے وجود سے انشاء اللہ ایک صالح جماعت پیدا ہوگی۔باہمی عداوت کا سبب کیا ہے۔بخل ہے، رعونت ہے، خود پسندی ہے اور جذبات ہیں۔ایسے تمام لوگوں کو جماعت سے الگ کر دوں گا۔جو اپنے جذبات پر قابو نہیں پاسکتے اور باہم محبت اور اخوت سے نہیں رہ سکتے۔جو