اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 6
مقصد میں کامیابی نہیں ہوئی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے انبیاء اس سوال کا جواب دینے کے لئے آتے ہیں۔اور نیکی کی ایسی رو چلاتے ہیں جسے دیکھ کر دشمن کو بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ مقصد پورا ہو گیا ہے۔اس دن کی آمد کے لئے اگر ہزار دن بھی انتظار کرنا پڑے تو گراں نہیں گزرتا۔اللہ تعالیٰ نے بھی انبیاء کے زمانے کو لیلتہ القدر قرار دیا ہے۔چنانچہ فرمایا کہ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شهر ( القدر : 4)۔یعنی وہ ایک رات ہزار مہینوں سے اچھی ہے۔گویا ایک صدی کے انسان بھی اس ایک رات کے لئے قربان کر دیئے جائیں تو یہ قربانی کم ہوگی بمقابلہ اُس نعمت کے جو انبیاء کے ذریعہ دنیا کو حاصل ہوتی ہے۔فرمایا: اس سال میں نے کچھ خطبات عملی اصلاح کے لئے دیئے تھے۔یہ 1936ء کی بات ہے۔آپ نے اس عرصے میں کچھ خطبات دیئے تھے۔ان میں توجہ دلائی تھی کہ وہ عظیم الشان مقصد جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت ہوئی اُسے پورا کرنے کے لئے ہمیں بڑی قربانیوں کی ضرورت ہے۔اور یہ صرف اُس زمانے کی بات نہیں تھی ، یہ ایک جاری سلسلہ ہے اور آج بھی اور آئندہ بھی اس کی ضرورت ہے اور ہوتی رہے گی۔فرمایا کہ اعتقادی رنگ میں ہم نے دنیا پر اپنا سکہ جمالیا ہے مگر عملی رنگ میں اسلام کا سکہ جمانے کی ابھی ضرورت ہے۔کیونکہ اس کے بغیر مخالفوں پر حقیقی اثر نہیں ہو سکتا۔پھر آپ نے مثال دی ہے کہ موٹی مثال عملی رنگ میں سچائی کی ہے۔یعنی ایک مثال میں سچائی کی دیتا ہوں۔اس کو اگر ہم عملی رنگ میں دیکھیں تو کس طرح ہے؟ فرمایا کہ یہ ایسی چیز ہے جسے دشمن بھی محسوس کرتا ہے۔دل کا اخلاص اور ایمان دشمن کو نظر نہیں آتا مگر سچائی کو وہ دیکھ سکتا ہے۔حقیقت یہی ہے کہ سچائی بہت زیادہ اثر ڈالتی ہے۔اُس زمانے میں بھی حضرت مصلح موعود کو فکر ہوتا تھا اور اب اس زمانے میں بھی مجھے بعض غیروں کے خط آتے ہیں جن میں احمدیوں کا سچائی کا جو پراسیس ہوتا ہے اُس کا ذکر کیا ہوتا ہے۔اور اس وجہ سے وہ جماعت کی تعریف کرتے ہیں۔اور جن احمدیوں سے اُنہیں دھوکہ اور جھوٹ کا واسطہ پڑا ہو تو پھر وہ یہی لکھتے ہیں کہ ہم نے جماعت کی نیک نامی کی وجہ سے اعتبار کر لیا لیکن آپ کے فلاں فلاں فرد جماعت نے ہمیں اس طرح دھو کہ دیا ہے۔