اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 5
عبادت کا حقیقی مفہوم : خلاصہ خطبہ جمعہ 29 نومبر 2013 تشہد وتعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آیت قرآنی وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (التريت : 57) کی تلاوت فرمائی اور انسانی زندگی کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا : ایک حقیقی عابد اُسی وقت عابد کہلا سکتا ہے جب ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی رضا مد نظر ہو اور اپنے دنیاوی فوائد کوئی حیثیت نہ رکھتے ہوں۔اس مضمون کو میں اکثر بیان کر کے توجہ دلاتا رہتا ہوں۔آج اس مضمون کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خطبہ سے استفادہ کرتے ہوئے آپ کے سامنے پیش کروں گا۔جیسا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا طریق تھا کہ واقعات کے ساتھ مضمون کو بیان فرمایا کرتے تھے کہ ان سے بعض پہلوؤں کی عملی شکل ہمارے سامنے آجاتی ہے۔وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: 57) یعنی میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے یا اپنا عبد بنانے کے لئے پیدا کیا ہے، کے مضمون کو بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ یہ وہ اعلیٰ مقصد ہے جس کے لئے انسان کی پیدائش ہوئی لیکن بڑے بڑے فلاسفر اور تعلیم یافتہ طبقہ یہ سوال کرتا ہے کہ کیا انسان کی پیدائش کے مقصد میں کامیابی ہوئی ہے اور کیا خدا تعالیٰ نے بنی نوع انسان سے وہ کام لے لیا ہے جسے مد نظر رکھتے ہوئے اُس نے انسان کو پیدا کیا تھا ؟ وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا واقعی میں انسان اس مقصد کو پورا کر رہا ہے؟ اور کیا واقعی میں اس نے اس قسم کی ترقی کی ہے کہ خدا تعالیٰ کا عبد کہلانے کا مستحق ہو۔تو فرمایا کہ اس کا جواب یہ ہے کہ نہیں۔اس لئے وہ سوال کرتے ہیں کہ اگر انسان کوکوئی پیدا کرنے والا ہے تو کیوں اُسے اس