اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 30
ہوتے ہیں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحه 375 خطبہ جمعہ 12 جون 1936ء) بسا اوقات انسان کو بیوی بچوں کی تکالیف عملی طور پر ابتلا میں ڈال دیتی ہیں۔مثلاً اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ کسی کا مال نہیں کھانا۔اب اگر کسی نے کسی کے پاس کوئی رقم بطور امانت رکھوائی ہو لیکن اُس کا کوئی گواہ نہ ہو، کوئی ثبوت نہ ہو تو جس کے پاس امانت رکھوائی گئی ہے اُس کی نیت میں بعض دفعہ اپنے بیوی بچوں کی ضروریات کی وجہ سے کھوٹ آ جاتا ہے، نیت بد ہو جاتی ہے، اُسے خیال آتا ہے کہ میری بیوی نے کچھ رقم کا مطالبہ مجھ سے کیا تھا اور اس وقت میرے پاس رقم نہیں تھی میں نے مطالبہ پورا نہیں کیا۔یا میرے بچے نے فلاں چیز کے لئے مجھ سے رقم مانگی تھی اور میں اُسے دے نہ سکا تھا۔اب موقع ہے۔یہ رقم مار کر میں اپنے بیوی اور بچے کے مطالبہ کو پورا کر سکتا ہوں یا بچے کی بیماری کی وجہ سے علاج کے لئے رقم کی ضرورت ہے ، رقم نہیں ہے۔اس امانت سے فائدہ اُٹھا کر اور یہ رقم خرچ کر کے میں اس کا علاج کروالوں، بعد میں دیکھا جائے گا کہ رقم دینی ہے یا نہیں دینی۔یا کسی اور مقصد کے لئے جو بیوی بچوں سے متعلقہ مقصد ہے، انسان کسی دوسرے کی رقم غصب کر لیتا ہے۔تو یہ پھر صرف مالی معاملات کی بات نہیں ہے۔صرف یہی مثالیں نہیں ہیں۔اس آزاد اور ترقی پسند معاشرے میں بعض ماں باپ خاص طور پر اور عموماً یہ بات کرتے ہیں ،لیکن غریب ممالک میں بھی یہ چیزیں سامنے آ جاتی ہیں کہ لاڈ پیار کی وجہ سے بچوں کو اسلامی تعلیم کی پابندی کروانے کی کوشش نہیں کی جاتی۔یہ باتیں جو میں کر رہا ہوں، افسوس سے میں کہوں گا کہ یہ ہمارے احمدی معاشرے میں نظر آ جاتی ہیں، وقتا فوقتا سامنے آتی رہتی ہیں۔کسی نے کسی کی امانت کھالی۔کسی نے کسی کو کسی اور قسم کا مالی دھوکہ دے دیا۔کسی نے یتیم کا مال پورا ادا کرنے کا حق ادا نہیں کیا۔قضاء میں بعض ایسے معاملات آتے ہیں یا شکایات آتی ہیں کہ کوئی امیر ممالک میں رہنے والا اپنی بیٹی کی شادی پاکستان میں کرتا ہے اور داماد کو پہلے دن ہی کہ دیتا ہے کہ میں نے اپنی بچی بڑے لاڈ پیار سے پالی ہے اور اس کو ہر قسم کی آزادی ہے۔اس پر کسی قسم کی پابندی نہ لگانا اور بیٹی کا دماغ باپ کی شہ پر عرش پر پہنچا ہوتا ہے۔خاوند کو وہ کوئی چیز نہیں سمجھتی۔حالانکہ اسلامی تعلیم ہے کہ بیوی خاوند کے حقوق ادا