اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 48
خلاصہ خطبہ جمعہ 31 جنوری 2014 عملی اصلاح کے لئے چار سہاروں کی ضرورت (1) ایمان (2) عمل (3) نگرانی (4) جبر حضور نے فرمایا گزشتہ خطبہ میں قوت ارادی کے پیدا کرنے اور علمی کمزوری دور کرنے کا ذکر ہو گیا تھا لیکن تیسری بات اس ضمن میں بیان نہیں ہوئی تھی۔یعنی عملی کمزوری کو دور کرنے کا طریق کیا ہے یا عملی قوت کو کس طرح بڑھایا جا سکتا ہے۔اس بارے میں آج کچھ کہوں گا۔اس کے لئے جیسا کہ پہلے خطبات میں ذکر ہو چکا ہے، بیرونی علاج یا مدد کی ضرورت ہے۔یا کہہ سکتے ہیں کہ دوسرے کے سہارے کی ضرورت ہے۔اور عملی اصلاح کے لئے یہ سہارا دو قسم کا ہوتا ہے یا دو قسم کے سہاروں کی ضرورت ہے۔ایک نگرانی کی اور دوسرا جبر۔نگرانی یہ ہے کہ مستقل نظر میں رکھا جائے ، زیر نگرانی رکھا جائے کہ کہیں کوئی بد عمل نہ کر لے۔اس قسم کی نگرانی دنیاوی معاملات میں بھی ہوتی ہے، گھروں میں ماں باپ بچوں کی نگرانی کرتے ہیں ، سکولوں میں استاد علاوہ پڑھانے کے نگرانی کا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔بعض دفعہ حکومت کے کارندے نگرانی کر رہے ہوتے ہیں اور یہ بتا دیتے ہیں کہ ہم نگرانی کریں گے۔سڑکوں پر ٹریفک کے لئے مستقل کیمرے لگائے ہوتے ہیں اور بورڈ لگے ہوتے ہیں کہ کیمرہ لگا ہوا ہے۔یہ نگرانی کا ایک عمل ہے۔بہر حال اس ساری نگرانی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اُن کاموں سے روکا جائے جن کی وجہ سے فساد پیدا ہوسکتا ہے یا اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اصلاح ہو، تو بہر حال ہر معاشرے کے قانون میں نگرانی ایک ذریعہ ہے اصلاح کا۔اور یہ نگرانی عملی اصلاح کے لئے ضروری ہے۔اور بہت سے غلط کاموں