اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 49
سے انسان اس وجہ سے بیچ رہا ہوتا ہے کہ معاشرہ اس کی نگرانی کر رہا ہے۔ماں باپ اپنے دائرے میں نگرانی کر رہے ہوتے ہیں۔مربیان کا یہ نگرانی کرنا اپنے دائرے میں کام ہے۔اور باقی نظام کو بھی اپنے اپنے دائرے میں نگران بننا ضروری ہے۔اور جب اسلام کی یہ تعلیم بھی سامنے ہو کہ ہر نگران اپنی نگرانی کے بارے میں پوچھا جائے گا تو نہ صرف اُن کی اصلاح ہوگی جن کی نگرانی کی جا رہی ہے بلکہ نگرانوں کی بھی اصلاح ہو رہی ہوگی۔تو بہر حال عملی اصلاح کے لئے نگرانی بھی ایک مؤثر ذریعہ ہے۔دوسری بات جو اصلاح کے لئے ضروری ہے۔جبر ہے۔یہاں کسی کے دل میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ ایک طرف تو ہم کہتے ہیں کہ دین کے معاملے میں جبر نہیں ہے دوسری طرف عملی اصلاح کے لئے جو علاج تجویز کیا جا رہا ہے، وہ جبر ہے۔پس واضح ہو کہ یہ جبر دین قبول کرنے یا دین چھوڑنے کے معاملے میں نہیں ہے۔ہر ایک آزاد ہے، جس دین کو چاہیے اختیار کرے اور جس دین کو چاہے چھوڑ دے۔اسلام تو بڑا واضح طور پر یہ اختیار دیتا ہے۔یہاں جبر یہ ہے کہ دین کی طرف منسوب ہو کر پھر اُس کے قواعد پر عمل نہ کرنا اور اُسے توڑنا ، ایک طرف تو اپنے آپ کو نظامِ جماعت کا حصہ کہنا اور پھر نظام کے قواعد کو توڑنا۔یہ بات اگر ہو رہی ہے تو پھر بہر حال سختی ہوگی اور یہی یہاں جبر سے مراد ہے۔نظام کا حصہ بن کر رہنا ہے تو پھر تعلیم پر بھی عمل کرنا ہوگا۔ورنہ سزامل سکتی ہے، جرمانہ بھی ہو سکتا ہے، بعض قسم کی پابندیاں بھی عائد ہوسکتی ہیں۔اور ان سب باتوں کا مقصد اصلاح کرنا ہے تا کہ قوت عملی کی کمزوری کو دور کیا جا سکے۔جماعت میں بھی جب نظام جماعت سزا دیتا ہے تو اصل مقصد اصلاح ہوتا ہے۔کسی کی سبکی یا کسی کو بلا وجہ تکلیف میں ڈالنا نہیں ہوتا۔یہ جبر حکومتی قوانین میں بھی لاگو ہے۔سزائیں بھی ملتی ہیں، جیلوں میں بھی ڈالا جاتا ہے، جرمانے بھی ہوتے ہیں، بعض دفعہ مارا بھی جاتا ہے۔تو مقصد یہی ہوتا ہے کہ معاشرے میں امن رہے اور دوسرے کو نقصان پہنچانے والے جو ہیں وہ نقصان پہنچانے کا کام نہ کر سکیں، بلکہ بعض دفعہ تو اپنے آپ کو نقصان پہنچانے والے کام پر بھی سزامل جاتی ہے۔لیکن اس سزا کے دوران اصلاح کرنے کے مختلف ذرائع استعمال کئے ۴۹