اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 42
دور کر دیئے جاتے ہیں۔تو اسی طرح بعض انسانوں کے لئے کچھ عرصے کے لئے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے اور آہستہ آہستہ یہ سہارا اُس میں اتنی طاقت پیدا کر دیتا ہے کہ وہ خود فعال ہو جاتا ہے اور عملی کمزوریاں دور ہو جاتی ہیں۔پس جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں بھی کہا تھا کہ ہمارا نظامِ جماعت، ہمارے عہدے دار، ہماری ذیلی تنظیمیں ان عملی کمزوریوں کو دور کرنے کا ذریعہ بنیں۔لیکن اگر خود یہ لوگ جو عہد یدار ہیں ان کی قوت ارادی میں کمی ہے علم میں کمی ہے اور عمل میں کمی ہے تو کسی کا سہارا کس طرح بن سکیں گے۔پس جماعتی ترقی کے لئے نظام کے ہر حصے کو ، بلکہ ہر احمدی کو اپنا جائزہ لیتے ہوئے اپنی اصلاح کی بھی ضرورت ہے اور اپنے دوستوں اور قریبیوں کی اصلاح کی ضرورت ہے تا کہ جماعت کا ہر فرد عملی اصلاح کے اعلیٰ معیاروں کو چھونے والا بن جائے اور اس لحاظ سے وہ اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والا ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔خلاصہ خطبہ جمعہ 24 جنوری 2014 لمسلہ کے مربیان اور واعظین کے فرائض : حضور نے فرمایا میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے مربیان ، ہمارے علماء اور ہمارے وہ عہدے داران اور امراء جن کو نصائح کا موقع ملتا ہے یا جن کے فرائض میں یہ داخل ہے اور ان عہدے داروں میں ذیلی تنظیموں کے عہدے دار بھی شامل ہیں، خاص طور پر ان باتوں کو سامنے رکھیں تا کہ جماعت کے افراد کی عملی اصلاح میں اپنا کردار بھر پور طور پر ادا کر سکیں۔اس بارے میں بہت سی باتیں میں جماعت کے سامنے وقتا فوقتاً پیش کرتا رہتا ہوں اور اب ایم۔ٹی۔اے کی نعمت کی وجہ سے جماعت کے افراد جہاں کہیں بھی ہیں اگر وہ ایم۔ٹی۔اے کے ذریعہ سے رابطہ رکھتے ہیں تو میری باتیں سن لیتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُن پر اثر بھی ہوتا ہے یا کم از کم اچھی تعداد میں