اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 35 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 35

نہیں کرتے جس پر اثر ہونے کے نتیجہ میں عملی اصلاح شروع ہو جاتی ہے۔ہمیں ان روکوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جو اس رستے میں حائل ہوتی ہیں۔پھر دیکھنا ہوگا کہ ہمارے عبودیت کے معیار کیا ہیں؟ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہماری عملی کوشش میں نیک نیتی اور اخلاص و وفا کتنا ہے۔پس دو قسم کی روکیں ہیں جو عملی اصلاح کے راستے میں حائل ہوتی ہیں، ایک قوت ارادی میں کمزوری اور دوسرے قوت عملی میں کمزوری۔لیکن جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے ان کے درمیان میں ایک اور صورت بھی عملی اصلاح میں کمی کی ہے اور وہ ہے علمی طور پر کمزوری۔یہ دونوں طرف اپنا اثر ڈالتی ہے۔ہم عملی زندگی میں دیکھتے ہیں کہ ارادہ بھی علم کے مطابق چلتا ہے اور عمل بھی علم کے مطابق چلتا ہے۔اس کی مثال یوں ہے کہ اگر کسی انسان کو یہ معلوم نہ ہو کہ ایک ہزار کالشکر اُس کے مکان پر حملہ آور ہونے والا ہے بلکہ صرف اس قدر جانتا ہو کہ کسی نے حملہ کرنا ہے اور ہوسکتا ہے ایک دو آدمی ہوں تو اُس کے مطابق وہ تیاری کرتا ہے۔لیکن اگر اسے یہ علم ہو کہ حملہ آور ایک ہزار ہیں تو پھر اس کی تیاری اُس سے مختلف ہوتی ہے۔پس علم کی کمی کی وجہ سے نقص پیدا ہو جاتا ہے اور علم کی صحت قوتِ ارادی کو بڑھا دیتی ہے۔اسی طرح بعض دفعہ انسان کسی چیز کو اٹھانے کے لئے ، اُٹھانے کی کوشش کرتا ہے اور اُسے ہلکی سمجھتا ہے لیکن وہ بھاری ہوتی ہے، اُٹھا نہیں سکتا۔لیکن جب ایک دفعہ اندازہ ہو جائے کہ یہ بھاری ہے تو پھر زیادہ قوت صرف کرتا ہے، زیادہ طاقت لگاتا ہے، اُٹھانے کا طریق بدل لیتا ہے تو پھر اُس کو اُٹھا بھی لیتا ہے۔پس کوئی زائد طاقت اُس میں دوسری دفعہ نہیں آئی بلکہ علم ہونے کی وجہ سے صحیح علم ہونے کی وجہ سے طاقت اور صحیح طریق پر طاقت کا استعمال اُس نے کیا تو اس میں کامیاب ہو گیا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک بات یہ بھی بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک انسان میں ایک قوت مواز نہ رکھی ہے جس سے وہ موازنہ کر سکتا ہے دو چیزوں کے درمیان ، جو یہ فیصلہ کرتی ہے کہ فلاں کام کرنے کے لئے اتنی طاقت درکار ہے۔اور کیونکہ ساری طاقت انسان کے ہاتھ میں نہیں ہوتی بلکہ دماغ میں محفوظ ہوتی ہے۔اس لئے پہلی دفعہ جب ایک کام نہ ہو، جیسے وزن اُٹھانے کی مثال دی گئی ہے، وزن نہ اُٹھایا جا سکے تو پھر انسان دماغ کو مزید طاقت بھیجنے کے لئے کہتا