اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 34 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 34

ارادی پر بھی اثر ڈالتی ہے۔بہر حال پہلے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ قوت ارادی اور قوت عملی ہی دو بنیادی چیزیں ہیں جو عملی اصلاح پر اثر انداز ہوتی ہیں۔اس کے لئے ہمیں قوتِ ارادی کو زیادہ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔اور قوت عملی کے نقص کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ہمارا ارادہ اگر مضبوط ہو کسی برائی کو روکنے کا تو تبھی وہ برائیاں رک سکتی ہیں اور ارادے کی مضبوطی اُس وقت کام آئے گی جب عمل کی کمزوری کو دور کریں گے، اُس کے نقص کو دور کریں گے۔اس کے بغیر اصلاح نہیں ہوسکتی۔جب ہم جائزہ لیتے ہیں اس پہلو سے کہ ہماری قوت ارادی کیسی ہے تو ہمیں نظر آتا ہے کہ جہاں تک ارادے کا تعلق ہے اس میں بہت کم نقص ہے، کیونکہ ارادے کے طور پر جماعت کے تمام یا اکثر افراد ہی تقریباً یہ چاہتے ہیں کہ ان میں تقویٰ اور طہارت پیدا ہو۔وہ اسلامی احکام کی اشاعت کر سکیں۔اللہ تعالیٰ کی محبت اور اُس کا قرب حاصل کر سکیں۔حضرت مصلح موعود نے اس کی وضاحت یوں فرمائی ہے کہ یہ باتیں ثابت کرتی ہیں کہ ہماری قوت ارادی تو مضبوط ہے اور طاقتور ہے پھر بھی نتائج صحیح نہیں نکلتے تو پھر یقیناً دو باتوں میں سے ایک بات ہے۔یا تو یہ کہ عمل کے لئے حقیقی قوت ارادی جو چاہئے ، اتنی ہمارے اندر نہیں ہے، لیکن عقیدے کی اصلاح کے لئے جتنی قوت ارادی کی ضرورت تھی وہ ہم میں موجود تھی، اس لئے عقیدے کی تو اصلاح ہو گئی لیکن عملی اصلاح کے لئے چونکہ قوت ارادی کی ضرورت تھی، وہ ہم میں موجود نہیں تھی، اس لئے ہم اعمال کی اصلاح میں کامیاب نہیں ہو سکے۔اور پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ہماری عبودیت میں بھی کچھ نقص ہے۔اور اس وجہ سے قوت عملی مفلوج ہو گئی ہے اور قوت ارادی کے اثر کو قبول نہیں کر رہی۔مثلاً ایک طالبعلم ہے، وہ اپنا سبق یاد کرتا ہے مگر یاد نہیں رکھ سکتا۔اُس کا جب تک ذہن درست نہیں کر لیا جاتا، اس وقت تک اُسے خواہ کتنا سبق دیا جائے، کتنی بار ہی اُسے یاد کروایا جائے یا کوشش کی جائے یاد کرانے کی ، وہ اُسے یاد نہیں رکھ سکے گا۔اس کے لئے ہمیں اپنی عملی اصلاح کی حالتوں کی طرف دیکھنا ہوگا۔ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہماری نیکی کے ارادے سے دماغ کے اس حصے پر ، یا ہماری نیکی کے ارادے دماغ کے اس حصے پر کیوں اثر ۳۴