اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 31
کرے اور اپنے گھر کی ذمہ داریاں نبھائے ، یہ اُس کے فرائض میں داخل ہے۔کبھی لڑ کے پاکستان سے لڑکیاں بیاہ کر لاتے ہیں اور لڑکی کو ظلم کی چکی میں پیتے چلے جاتے ہیں اور لڑکے کے ماں باپ کہتے ہیں کہ لڑکی سب کچھ برداشت کرے، مرد تو ایسے ہی ہوتے ہیں۔یہ بچوں کا لاڈ جہاں ماں باپ کی عملی حالت کو برباد کر رہا ہوتا ہے، وہاں گھروں کو بھی برباد کر رہا ہوتا ہے۔چھٹا سب چھٹا سبب عملی اصلاح میں روک کا یہ ہے کہ انسان اپنی مستقل نگرانی نہیں رکھتا۔یعنی عمل کا خیال ہر وقت رکھنا پڑتا ہے تبھی عملی اصلاح ہو سکتی ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحه 380 خطبہ جمعہ 12 جون 1936ء) ہر کام کرتے وقت یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ اس کام کے نتائج نیک ہیں یا نہیں۔اس کام کو کرنے کی مجھے اجازت ہے یا نہیں۔میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس بات پر عمل کر رہا ہوں یا نہیں کہ قرآن کریم کے جو سات سو حکم ہیں اُن پر عمل کرو۔کہیں میں ان سے دُور تو نہیں جا رہا۔مثلاً دیانت سے کام کرنا ایک اہم حکم ہے۔ایک دکاندار کو بھی یہ حکم ہے، ایک کام کرنے والے مزدور کو بھی یہ حکم ہے اور اپنے دائرے میں ہر ایک کو یہ حکم ہے کہ دیانتدار بنو۔ایک دکاندار ہے، اُس کے سامنے دیانت سے چلنے کا حکم کئی بار آتا ہے۔ایک انجان گا ہک آتا ہے تو اُسے وہ یا کم معیار کی چیز دیتا ہے، یا قیمت زیادہ وصول کرتا ہے، یا اُس مقررہ قیمت پر کم وزن کی چیز دیتا ہے۔ایک احمدی دکاندار کا معیار ہمیشہ اچھا ہونا چاہئے ، اُن کا وزن پورا ہونا چاہئے ،کسی چیز میں نقص کی صورت میں گا بک کے علم میں وہ نقص لانا ضروری ہونا چاہئے۔منافع مناسب اور کم ہونا چاہئے۔اس سے انشاء اللہ تعالیٰ تجارت میں برکت پڑتی ہے، کمی نہیں آتی۔اسی طرح ہر میدان کے احمدی کو اپنی دیانت کا حسن ظاہر کرنے کی ضرورت ہے۔ساتواں سبب ساتواں سبب اعمال کی اصلاح میں روک کا یہ ہے کہ انسانی تعلقات اور رویے جو ہیں وہ حاوی