اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 17 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 17

ادنی ادنی خیر سے محروم تو نہیں کر رہے؟ کیا ہم اپنے قصور وار کا گناہ بخشنے والے ہیں؟ کیا ہمارے دل دوسروں کے لئے ہر قسم کے کینے اور بغض سے پاک ہیں؟ کیا ہر خاوند اور ہر بیوی ایک دوسرے کی امانت کا حق ادا کرنے والے ہیں؟ کیا ہم عہد بیعت کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی حالتوں کی طرف نظر رکھنے والے ہیں؟ کیا ہماری مجلسیں دوسروں پر تہمتیں لگانے اور چغلیاں کرنے سے پاک ہیں؟ کیا ہماری زیادہ تر مجالس اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کرنے والی ہیں ؟ اگر ان کا جواب نفی میں ہے تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم سے دُور ہیں اور ہمیں اپنی عملی حالتوں کی فکر کرنی چاہئے۔اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو ہم میں سے وہ خوش قسمت ہیں جن کو یہ جواب ہاں میں ملتا ہے کہ ہم اپنی عملی حالتوں کی طرف توجہ دے کر بیعت کا حق ادا کرنے والے ہیں۔لیکن اگر حقیقت کی آنکھ سے ہم دیکھیں تو ہمیں یہی جواب نظر آتا ہے کہ بسا اوقات معاشرے کی رو سے متاثر ہوتے ہوئے ہم ان باتوں یا ان میں سے اکثر باتوں کا خیال نہیں رکھتے اور معاشرے کی غلطیاں بار بار ہمارے اندر داخل ہونے کی کوشش کرتی ہیں اور ہم اکثر اوقات بے بس ہو جاتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم میں سے 99۔99 فیصد یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم عقیدے کے لحاظ سے پختہ ہیں اور کوئی ہمیں ہمارے عقیدے سے متزلزل نہیں کر سکتا، ہٹا نہیں سکتا۔لیکن ہمیں ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ عملی کمزوریاں جب معاشرے کے زور آور حملوں کے بہاؤ میں آتی ہیں تو اعتقاد کی جڑوں کو بھی ہلانا شروع کر دیتی ہیں۔شیطان آہستہ آہستہ حملے کرتا ہے۔نظامِ جماعت سے دُوری پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔اور پھر ایک قدم آگے بڑھتا ہے تو خلافت سے بھی دُوری پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔پس ہمیں یادرکھنا چاہئے کہ ایک کمزوری دوسری کمزوری کی جاگ لگاتی ہے اور آخر کا رسب کچھ برباد ہو جاتا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ احمدیت کی خوبصورتی تو نظامِ جماعت اور نظامِ خلافت کی لڑی میں پرویا جانا ہے۔اور یہی ہماری اعتقادی طاقت بھی ہے اور عملی طاقت بھی ہے۔اس لئے ۱۷