اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 9 of 64

اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 9

پاس آئے اور شدت جذبات سے آپ اُس وقت سردی محسوس کر رہے تھے۔جب گھر میں داخل ہوئے تو آپ نے کہا مجھے کپڑا پہنا دو، کپڑا اوڑھا دو۔حضرت خدیجہ نے دریافت کیا کہ آپ کو کیا تکلیف ہے؟ آپ نے سارا واقعہ سنایا۔حضرت خدیجہ نے جواب دیا کہ كَلَّا وَاللهِ لَا يُخْزِيكَ الله ابدا۔کہ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں۔خدا کی قسم ! کبھی خدا آپ کو رسوا نہیں کرے گا کیونکہ آپ میں فلاں فلاں خوبیاں ہیں اور ان خوبیوں میں سے ایک یہ بتائی کہ جو اخلاق دنیا سے اُٹھ گئے ہیں آپ نے اپنے وجود میں ان کو دوبارہ پیدا کیا ہے اور بنی نوع انسان کی اس کھوئی ہوئی متاع کو دوبارہ تلاش کیا ہے۔پھر بھلا خدا آپ جیسے وجود کو کس طرح ضائع کر سکتا ہے؟ تو انبیاء کی بعثت کی غرض یہی ہوتی ہے اور مومنوں کے سپر دیہی امانت ہوتی ہے جس کی حفاظت کرنا اُن کا فرض ہوتا ہے۔محبت کی وجہ سے انبیاء کا وجود مومنوں کو بیشک بہت پیارا ہوتا ہے۔مگر حقیقت کے لحاظ سے انبیاء کی عظمت کی وجہ وہی نور ہے جسے دنیا تک پہنچانے کے لئے خدا تعالیٰ انہیں مبعوث کرتا ہے، انہیں خدا تعالیٰ کا وہ پیغام ہی بڑا بنا تا ہے جو وہ لاتے ہیں۔پس جب نبی کے اتباع یعنی پیروکار اس وجود کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں تو اس پیغام کی حفاظت کے لئے کیا کچھ نہ کرنے کے لئے تیار ہوں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کی قربانیاں : حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کی حفاظت کے لئے صحابہ کرام نے قربانیاں کیں، وہ واقعات پڑھ کر بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اُن کی محبت کو دیکھ کر آج بھی دل میں محبت کی لہر پیدا ہو جاتی ہے۔اُحد کی جنگ میں ایک ایسا موقع آیا کہ صرف ایک صحابی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہ گئے اور دشمن بے تحاشا تیر اور پتھر پھینک رہے تھے۔اُس صحابی نے اپنا ہاتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی طرف کر دیا اور اُس پر اتنے تیر اور پتھر لگے کہ وہ ہمیشہ کے لئے بیکار ہو گیا۔کسی نے صحابی سے پوچھا، یہ کیا ہوا تھا؟ تو انہوں نے بتایا کہ اتنے تیر اور پتھر اس پر لگے ہیں کہ ہمیشہ کے لئے شل ہو گیا۔اُس نے پوچھا کہ آپ کے