اِصلاحِ اعمال کے متعلق زرّیں نصائح — Page 50
جاتے ہیں۔اگر کسی کو پھانسی بھی دی جاتی ہے تو یہ جبر اس لئے ہوتا ہے کہ قاتل نے ایک جان لی ہے اور اگر قاتلوں کو کھلی چھٹی مل جائے تو پھر معاشرے کا امن برباد ہو جائے اور کئی اور قاتل پیدا ہو جائیں۔پس قتل کی سزا قتل دینے سے کئی ایسے لوگوں کی اصلاح ہو جاتی ہے یا وہ اس کام سے رُک جاتے ہیں جو قتل کا رجحان رکھتے ہیں، جو زیادہ جو شیلے ہوتے ہیں۔بہر حال یہ جبر اصلاح کا ایک پہلو ہے جو دنیا میں بھی رائج ہے۔دنیا دار کی جبر سے یا دنیاوی سزاؤں کے جبر سے ایمان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔لیکن ایک دین کی طرف منسوب ہونے والے پر جب جبر کیا جاتا ہے اور دینی نظام کے تحت اُس کو سزا دی جاتی ہے یا کسی بھی قسم کی سزا ہو، جرمانہ یا اور کوئی سزا ہو یا بعض پابندیاں عائد کردی جاتی ہیں۔جماعت میں بعض دفعہ بعض چندے لینے پر پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں تو بیشک جبراً ان کاموں سے روکا جارہا ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی جب وہ باتیں یا اعمال جو صالح اعمال ہیں، اُن کی طرف توجہ دلائی جارہی ہو اور کوئی شخص اس لئے کر رہا ہو کہ سزا سے بچ جاؤں یا خلیفہ وقت کی ناراضگی سے بچ جاؤں یا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچ جاؤں تو آہستہ آہستہ دل میں ایمان پیدا ہوتا ہے اور پھر یہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے اور ایسے لوگ برائیوں کو چھوڑ کر خوشی سے نیک اعمال بجالانے والے بننا شروع ہو جاتے ہیں۔پس ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ نیک اعمال بجالانے کی عادت ڈالنے کے لئے مختلف ذرائع استعمال کرنے پڑتے ہیں۔بغیر ان ذرائع کو اختیار کئے اصلاح اعمال میں کامیابی نہیں ہو سکتی۔پس ان ذرائع کا استعمال انتہائی ضروری ہے۔یہ چار چیزیں ہیں جن کے بغیر اصلاح مشکل ہے۔جب ہم گہرائی میں جائزہ لیں تو ہمیں پستہ چلتا ہے کہ دنیا میں ایک طبقہ ایسا ہے جو ایمانی قوت اپنے اندر نہیں رکھتا۔یعنی وہ معیار نہیں رکھتا جو اصلاح عمل کے لئے ایک انسان میں ہونا ضروری ہے۔ایسے لوگوں کے دلوں میں اگر قوت ایمانیہ بھر دی جائے تو ان کے اعمال درست ہو جاتے ہیں۔اور ایک طبقہ ایسا ہوتا ہے جو عدم علم کی وجہ سے گناہوں کا شکار ہوتا ہے۔اس کے لئے صحیح علم کی ضرورت ہوتی ہے۔اور ایک طبقہ جو نیک اعمال بجا لانے کے لئے دوسروں کا محتاج ہوتا ہے۔یہ تین قسم کے لوگ ہیں۔اور اُن کی احتیاج دو طرح سے