امن کے شہزادہ کا آخری پیغام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page v of 65

امن کے شہزادہ کا آخری پیغام — Page v

امن کے شہزادہ کا آخری پیغام : کلام سے دیتا ہے۔لاکھوں انسان اس مقدس وجود کی پیروی کر کے روحانی زندگی کے چشمہ سے سیراب اور قادر مطلق خدا سے تعلق پیدا کر کے گناہوں کی زندگی سے پاک ہو رہے ہیں اور یہ سلسلہ جلد از جلد بڑھ رہا ہے اور دنیا کے کناروں تک شہرت حاصل کر رہا ہے۔حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے اپنی وفات سے جو ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو ہوئی صرف ایک دو دن پہلے اپنا مشہور لیکچر ”پیغام صلح تحریر فرمایا جو مورخہ ۲۱ جون ۱۹۰۸ ء کو رائے بہادر پر تول چندر چڑ جی کی صدارت میں آپ کی وفات کے بعد پڑھ کر سنایا گیا۔اس پیغام میں اگر چہ ہندوستان میں بسنے والی دو بڑی قوموں ہندو اور مسلمان کو زیادہ تر مخاطب کیا گیا ہے لیکن پیش کردہ اصول ملک کی سب قوموں میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کے لئے مفید اور ضروری ہیں۔شری برہم دت اخبار فرنٹیئر میل دہرہ دون مورخہ ۱۲؍ دسمبر ۱۹۴۸ء میں اسی پیغام کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- احمد یہ جماعت مسلمانوں میں ایک ترقی پسند جماعت ہے، جملہ مذاہب کے ساتھ رواداری اس کی بنیادی تعلیم میں شامل ہے، تمام پیشوایان مذاہب کی عزت و تکریم کرتے ہوئے احمدیوں نے ان کی تعلیمات کو اپنی مذہبی کتب میں شامل کیا ہے۔چالیس سال پیشتر یعنی اس وقت جبکہ ابھی مہاتما گاندھی اُفق سیاست پر نمودار نہ ہوئے تھے مرزا غلام احمد صاحب نے ۱۸۹۱ء میں دعویٰ مسیحیت فرما کر اپنی تجاویز رسالہ ”پیغام صلح میں پیش فرمائیں جن پر عمل