امن کے شہزادہ کا آخری پیغام — Page 17
امن کے شہزادہ کا آخری پیغام پاک ذات پر نکل اور پکش پات کا داغ لگاتی ہو بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب کسی الہامی کتاب پر ایک زمانہ دراز گذر جاتا ہے تو اس کے پیرو کچھ تو باعث نادانی کے اور کچھ باعث اغراض نفسانی کے سہو ایا عمدا اس کتاب پر اپنی طرف سے حاشیے چڑھا دیتے ہیں اور چونکہ حاشیہ چڑھانے والے متفرق خیالات کے لوگ ہوتے ہیں اس لئے ایک مذہب سے صدہا مذہب پیدا ہو جاتے ہیں۔ اور یہ عجیب بات ہے کہ جس طرح آریہ صاحبان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہمیشہ آریہ خاندانوں اور آریہ ورت تک ہی الہام الہی کا سلسلہ محدود رہا ہے اور ہمیشہ ویدک سنسکرت ہی الہام الہی کے لئے خاص رہی ہے اور وہ پرمیشر کی زبان ہے۔ یہی یہود کا خیال اپنے خاندان اور اپنی کتابوں کی نسبت ہے ۔ ان کے نزدیک بھی خدا کی اصلی زبان عبرانی ہے اور ہمیشہ خدا کے الہام کا سلسلہ بنی اسرائیل اور انہیں کے ملک تک محدود رہا ہے اور جو شخص ان کے خاندان اور ان کی زبان سے الگ ہونے کی حالت میں نبی ہونے کا دعویٰ کرے اس کو وہ نعوذ باللہ جھوٹا خیال کرتے ہیں ۔ 17