امن کے شہزادہ کا آخری پیغام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 65

امن کے شہزادہ کا آخری پیغام — Page 12

امن کے شہزادہ کا آخری پیغام بابا نانک صاحب ہیں جن کی بزرگی کی شہرت اس تمام ملک میں زبان زدعام ہے۔ اور جن کی پیروی کرنے والی اس ملک میں وہ قوم ہے جو سکھ کہلاتے ہیں جو ہیں لاکھ سے کم نہیں ہیں ۔ باوا صاحب اپنی جنم ساکھیوں اور گرنتھ میں کھلے کھلے طور پر الہام کا دعویٰ کرتے ہیں یہاں تک کہ ایک جگہ وہ اپنی ایک جنم ساکھی میں لکھتے ہیں کہ مجھے خدا کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ دین اسلام سچا ہے اسی بناء پر انہوں نے حج بھی کیا اور تمام اسلامی عقائد کی پابندی اختیار کی اور بلا شبہ یہ بات ثابت ہے کہ اُن سے کرامات اور نشان بھی صادر ہوئے ہیں اور اس بات میں کچھ شک نہیں ہو سکتا کہ باوانا تک ایک نیک اور برگزیدہ انسان تھا اور ان لوگوں میں سے تھا جن کو خدائے عز وجل اپنی محبت کا شربت پلاتا ہے۔ وہ ہندوؤں میں صرف اس بات کی گواہی دینے کے لئے پیدا ہوا تھا کہ اسلام خدا کی طرف سے ہے جو شخص اس کے وہ تبرکات دیکھے جوڈیرہ ناٹک میں موجود ہیں جن میں بڑے زور سے اس نے کلمہ لا الهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کی گواہی دی ہے اور پھر وہ تبرکات دیکھے جو بمقام گرو ہر سہائے ضلع فیروز پور میں موجود ہیں۔ جن میں ایک 12