امن کے شہزادہ کا آخری پیغام — Page 13
امن کے شہزادہ کا آخری پیغام : قرآن شریف بھی ہے۔تو کس کو اس بات میں شک ہوسکتا ہے کہ باوا نا تک صاحب نے اپنے پاک دل اور پاک فطرت اور اپنے پاک مجاہدہ سے اس راز کو معلوم کر لیا تھا جو ظاہری پنڈتوں پر پوشیدہ رہا۔اور اُنہوں نے الہام کا دعویٰ کر کے اور خدا کی طرف سے نشان اور کرامات دکھلا کر اس عقیدہ کا خوب کھنڈن اور رڈ کر دیا جو کہا جاتا ہے کہ وید کے بعد کوئی الہام نہیں اور نہ نشان ظاہر ہوتے ہیں۔بلاشبہ باوانا نک صاحب کا وجود ہندوؤں کے لئے خدا کی طرف سے ایک رحمت تھی اور یوں سمجھو کہ وہ ہندو مذہب کا آخری اوتار تھا۔جس نے اس نفرت کو دُور کرنا چاہا تھا جو اسلام کی نسبت ہندوؤں کے دلوں میں تھی۔لیکن اس ملک کی یہ بھی بدقسمتی ہے کہ ہندو مذہب نے باوانا نک صاحب کی تعلیم سے کچھ فائدہ نہیں اُٹھایا۔بلکہ پنڈتوں نے اُن کو دُکھ دیا کہ کیوں وہ اسلام کی تعریف جابجا کرتا ہے۔وہ ہندو مذہب اور اسلام میں صلح کرانے آیا تھا۔مگر افسوس کہ اسکی تعلیم پر کسی نے توجہ نہیں کی۔اگر اس کے وجود اور اس کی پاک تعلیموں سے کچھ فائدہ اُٹھایا جاتا تو آج ہندو اور مسلمان سب ایک ہوتے۔ہائے افسوس ہمیں اس تصور سے رونا آتا ہے کہ ایسا نیک آدمی 13