امن کا پیغام اور ایک حرفِ انتباہ — Page 14
امن کا پیغام اور ایک حرف انتباہ ۱۴ ان کا پہلا اور بھر پور وار اسلام کے خلاف تھا اسے اپنی فتح کا اتنا یقین تھا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ دنیا میں اعلان کیا گیا کہ : ۱) براعظم افریقہ عیسائیت کی جیب میں ہے۔(۲) ہندوستان میں دیکھنے کو بھی مسلمان نہ ملے گا، اور ۳) وقت آ گیا ہے کہ مکہ معظمہ پر عیسائیت کا جھنڈا لہرائے گا۔حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کی اپنی حالت یہ تھی کہ ابھی گنتی کے چند غریب مسلمان آپ کے گرد جمع ہوئے تھے۔کوئی جتھہ، کوئی دولت، کوئی سیاسی اقتدار آپ کے پاس نہ تھا مگر وہ جس کے قبضہ قدرت میں ہر شے ہے آپ کے ساتھ تھا اور اسی خدا نے آپ سے یہ کہا کہ دنیا میں یہ منادی کر دو کہ اسلام کی تازگی کے دن آگئے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب اسلام تمام ادیانِ عالم پر اپنے دلائل اور اپنی روحانی تاثیروں کی رو سے غالب آئے گا۔آگے چلنے سے قبل ایک بات کی وضاحت کر دوں کہ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے اور ہم تمام مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ مسیح ناصری علیہ السلام خدا کے ایک برگزیدہ نبی تھے اور انکی والدہ بھی نیکی میں ایک پاک نمونہ تھیں۔قرآن کریم نے ان دونوں کا ذکر عزت سے کیا ہے۔مریم علیھا السلام کو تو قرآن کریم نے پاکیزگی کی مثال کے طور پر پیش کیا ہے اور قرآن کریم میں آپ کا ذکر انجیل کی نسبت زیادہ عزت کے ساتھ کیا گیا ہے، لیکن قرآن کریم ان دونوں کو معبود ماننے کے کلیسیائی عقیدے کی