امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ

by Other Authors

Page 4 of 24

امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ — Page 4

پیچھے پیچھے دوڑ رہی تھیں۔ادھر حضرت ابراہیم علیہ السلام دکھ کی وجہ سے اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش میں تھے۔کوئی جواب نہ دے سکے۔آخر بیوی کی بے قراری سے بے چین ہو کر بڑے صبر اور سکون سے بیوی کی طرف دیکھا اور آسمان کی طرف انگلی اٹھا دی جس سے وہ نیک عورت فور اسمجھ گئیں کہ یہ خدا کا حکم ہے۔اس پر اس عظیم عورت نے کہا آپ فکر نہ کریں اگر یہ خدا کا حکم ہے تو وہ ہمیں کبھی ضائع نہیں کرے گا۔دیکھا بچو ! ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کی دادی کی خُدا سے محبت اور اس پر یقین کہ اس کی راہ میں دی ہوئی قربانی ضائع نہیں ہوتی۔اس راہ ہوئی نہیں پھر حضرت ہاجرہ واپس آگئیں اور متوکل ہو کر بچے کے پاس بیٹھ گئیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دُعا کی۔”اے ہمارے رب میں نے اپنی نسل کے ایک حصہ کو اس بنجر اور غیر آبا د وادی میں تیرے عزت والے گھر کے پاس بسایا ہے۔اے ہمارے رب میں نے یہ کام اس لیے کیا ہے کہ وہ تیری عبادت کریں اور تیرے لئے ان کی زندگی وقف ہو۔تو لوگوں کے دل ان کی طرف جھکا دے اور ان کو اچھے اچھے پھلوں سے رزق دے تا کہ وہ تیرے شکر گزار ہوں،، (ابراہیم : ۳۸) پیارے بچو! اب ہوا یہ کہ کھانے پینے کا سامان تو بہت تھوڑے عرصہ میں ختم ہو گیا۔اب اس ننھے بچے کو پیاس لگی۔حضرت ہاجرہ پریشان ہو گئیں۔ادھر ادھر پانی تلاش کیا لیکن پانی ہوتا تو ملتا۔پھر یہ ہوا کہ جیسے جیسے بچے کی پیاس بڑھ رہی تھی۔حضرت ہاجرہ کی بے قراری میں بھی اضافہ ہو رہا تھا۔آخر نے اسمعیل کی حالت خراب ہونے لگی تو وہ تڑپ اُٹھیں اور بے ساختہ آسمان کی طرف منہ کر کے رو پڑیں گو یا خُدا سے فریاد کر رہی تھیں۔پھر پانی کی