امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ

by Other Authors

Page 3 of 24

امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ — Page 3

بھی نبی جو دعاؤں کے طفیل بشارتوں اور پیشگوئیوں کے ساتھ پیدا ہونے والا بابرکت وجود تھا۔اب سنئے ان ماں بیٹے کے ساتھ کیا ہوا؟ حضرت سارہ کے کوئی اولاد نہ تھی انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کہا کہ ان ماں بیٹے دونوں کو گھر سے نکال دیں۔یہ ٹن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت افسردہ ہو گئے۔قدرتی امر تھا کہ بڑھاپے میں اتنی دُعاؤں کے بعد پیدا ہونے والا بچہ گھر سے نکالنا آسان نہیں ہوتا دل تو برا ہونا ہی تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی اور کہا کہ پریشان نہ ہو مجھے ہاجرہ کے فرزند سے ایک قوم بنانا ہے۔اس لئے کہ وہ تیری نسل ہے یا بچو ! حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خُدا تعالیٰ نے ایسی فطرت دی تھی کہ وہ اپنے مولا کی ہر بات کو خواہ وہ بظاہر کتنی ہی مشکل نظر آئے ضرور مان لیتے تھے۔اب بھی ایسا ہی ہوا اور انہوں نے اللہ پاک کی بات مانتے ہوئے کھانے کا کچھ سامان رکھا اور پانی کا چھوٹا سا مشکیزہ لیا۔ننھے اسمعیل اور حضرت ہاجرہ کو ساتھ لیا اور خُدا کے بتائے ہوئے راستہ پر چل پڑے۔میلوں فاصلہ طے کر کے جب آپ عرب کے علاقے حجاز کے اندر مکہ کی وادی میں پہنچے تو ان کو یقین ہو گیا کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں خُدا نے ان کو چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔اُس وقت اس ویران جگہ پر نہ پانی تھا نہ گھاس تو بھلا انسان کیسے ہوتا۔لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بڑے حوصلہ اور ہمت کے ساتھ اُن کو وہاں چھوڑا۔کھانے پینے کا سامان رکھا اور واپسی کے لیے مڑے۔حضرت ہاجرہ شوہر کو واپس جاتا دیکھ کر بے قرار ہوگئیں۔پوچھنے لگیں۔" آپ ہمیں اس طرح 1 کیلے چھوڑ کر کیوں جا رہے ہیں۔ہم سے کیا قصور ہو گیا ہے جس کی ایسی سزا دے رہے ہیں۔“ ،، وہ بے چینی کے عالم میں بار بار سوال دہراتی ہو ئیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے۔ه پیدائش باب ۲۱ آیت ۱۰ تا ۱۳