امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ

by Other Authors

Page 17 of 24

امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ — Page 17

۱۷ یہ بات بچو! اس چیز کی دلیل تھی کہ عبد المطلب کو خدا کی ذات پر پورا بھروسہ تھا۔آپ کو یقین تھا کہ خدا اپنے گھر کی خود حفاظت کرے گا۔اور خُدا نے حفاظت کی۔اس نے اس تمام لشکر کو تباہ کر دیا ہے یہ واقعہ ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے ہوا۔ان تمام واقعات کی وجہ سے آپ کے دادا کی شان میں نمایاں اضافہ ہوا۔عرب میں مکہ کی حیثیت اور بلند ہوگئی۔اس گھر کی عظمت کو چار چاند لگ گئے۔قریش کی شاخ بنو ہاشم سارے علاقے میں سب سے معزز اور قابل احترام گنے جاتے۔میرے پیارے بچو! تم جو باغ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی تھی کلیاں ہو ذراغور تو کر واپنے خُدا کی شان پر اس کی عظمت پر اور اس کے انتظامات پر کہ حضرت اسمعیل کو جو تین انعامات دیئے گئے یعنی چشمہ زمزم۔خانہ کعبہ کی خدمت اور مکہ کی سرداری وہ تینوں آپ کے دادا کے دامن سے وابستہ ہو گئے۔اور اس طرح سے خُدا نے دُنیا کو بتا دیا کہ میں نے یہ مکہ۔یہ کعبہ۔یہ زمزم اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر سنبھال کر رکھے تھے۔اب آپ گومل جائیں گے۔دنیا کی کوئی طاقت ان انعامات سے آپ کو، آپ کے ماننے والوں کو اور آپ سے سچی محبت رکھنے والوں کو محروم نہیں کر سکتی۔یہ ازل سے فیصلہ ہے جو ابد تک جاری رہے گا۔بچو! مکہ کو دنیا کی ناف بھی کہا جاتا ہے۔یعنی یہ دُنیا کا مرکز ہے اور جب آپ پیدا ہوئے اُس وقت اس کرہ ارض کہ بہت سے حصّے دریافت نہیں ہوئے تھے۔لیکن بعد میں جب سارے براعظم دریافت ہو گئے تو حقیقتا مکہ دنیا کی ناف بن گیا پھر جو زبان مکہ میں بولی جاتی ہے یعنی عربی اس کو خُدا نے تمام زبانوں کی ماں قرار دیا۔گویا میرے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کا شہر دنیا کا مرکز ، خُدا کا گھر آپ کے لئے۔آپ کی زبان ساری زبانوں کی سورة الفيل