امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ — Page 18
۱۸ جامع۔آپ کی ذات کا ئنات کا مقصود۔آپ کے اخلاق الہی صفات کا عکس۔آپ کا کردار انسانیت کی انتہا۔آپ کا حسن خُدائی نور سے سجا ہوا۔آپ کا وجود خُدا کا محبوب۔یہ ساری باتیں مرکز تھیں۔قانون خداوندی ہے کہ ہر شے مرکز کے گرد چکر لگاتی ہے اور مرکز سے طاقت پاتی ہے اور زندہ رہتی ہے گویا ہر حسن، ہر خوبی اور ہر صفت کا مرکز میرے آقا کی ذات ہے جبھی تو خُدا نے آپ کو دنیا کے مرکز مکہ میں پیدا کیا۔آپ کی پیدائش سے قبل ہی مکہ کا اپنا ایک مقام تھا مگر آپ کے بعد اس کی عزت و احترام میں نمایاں اضافہ ہوا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ساری دُعائیں اس شہر کے حق میں قبول ہوئیں۔اب میں آپ کو ایسی بات بتاتی ہوں کہ آپ حیران رہ جائیں گے۔آپ کو وہ دُعا تو یاد ہے نا جو حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے کی تھی کہ ”اے خُدا اُن کو دُنیا کہ بہترین پھل اور میوے دے۔“ اس دُعا کی غرض یہ تھی کہ ایسا نہ ہو کہ یہ اپنے آپ کو دُنیا کی نعمتوں سے محروم سمجھیں کہ ہم جو خُدا کے گھر کی خدمت کے لیے ہیں ہم وہ نعمتیں حاصل نہیں کر سکتے بلکہ تو انہیں ہر قسم کے اعلیٰ درجہ کے پھل کھلا۔اور انعامات سے نوازتا کہ اُنہیں معلوم ہو کہ جو اس کی خاطر سب کچھ چھوڑ دیتا ہے خُد اسب کچھ ان کے قدموں میں لا ڈالتا ہے۔چنانچہ حاجی اس معجزہ کے چشم دید گواہ ہیں کہ حضرت ابراہیم نے روٹی نہیں مانگی بلکہ پھل جیسی نازک چیز جو کہ کچھ عرصہ گذرنے کے بعد سڑنے لگتی ہے اور ظاہر ہے کہ یہ نعمتیں اُس وقت پیدا نہیں ہوئی تھیں۔لیکن حج کے موقع پر مکہ میں ہندوستان کے گئے۔طائف کے انگور اور انار دیکھے ہیں۔سارے یورپ میں اٹلی کے انگور بہت مشہور ہیں۔مگر جو مٹھاس لذت مکہ کے انگوروں میں ہے وہ کہیں نہیں اسی طرح کابل اور قندھار کے انار ساری دُنیا میں مانے جاتے ہیں مگر جو انار