امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ — Page 15
۱۵ نے دیکھا کہ ایک انتہائی خوبصورت اور ذہین بچہ مطلب کے ساتھ آیا ہے تو قریش سمجھے کہ مطلب اپنے لئے غلام لے کر آئے ہیں۔اس وجہ سے مکہ والے شیبہ کو عبد المطلب یعنی مطلب کا غلام کہنے لگے لے عبد المطلب بچہ تھے۔اس وجہ سے خانہ کعبہ کی حفاظت ، حاجیوں کی خدمت کا کام مطلب نے اپنے ذمہ لے لیا۔لیکن جب عبد المطلب جوان ہوئے اور اُن کے چچا کی وفات ہوگئی تو اس سعادت کو حاصل کرنا چاہا۔مگر دوسرے چچا نوفل نے قبضہ کر لیا۔عبدالمطلب کے تین بھائی اور تھے۔لیکن وہ اتنے قابل اور لائق نہ تھے کہ بھائی کی مدد کرتے۔آپ نے اپنے قبیلہ سے مدد مانگی۔جب وہ بھی اس پر آمادہ نہ ہوئے تو انہوں نے اپنے نانا کو کہلا بھیجا کہ میرا چا مجھے ورثہ نہیں دیتا۔میرا حق لینے میں میری مدد کی جائے چنانچہ آپ کے نانا نے اسی (۸۰) آدمی مکہ بھجوائے۔جو نہی یہ لوگ پہنچے اس وقت نوفل مسجد الحرام میں بیٹھا تھا۔خوف زدہ ہو گیا اور عبد المطلب کے حق میں دستبردار ہو گیا۔ایک بار پھر بچوغور کرو! کہ جب مکہ والوں نے حقدار کو حق دینے سے گریز کیا تو خُدا نے مدینہ کے لوگوں کو کھڑا کر دیا۔اس طرح اللہ تعالیٰ جہاں مکہ کے لوگوں کو سمجھا رہا تھا کہ یہ شہر اور اس کے انعامات میرے محبوب کے لئے ہیں وہاں وہ مدینہ کے لوگوں کو بھی بتا رہا تھا کہ وقت آنے پر تم نے اس مقدس وجود کی مدد کرنی ہے۔عبد المطلب بڑے خوبصورت، قد آور تندرست جوان تھے۔عربی زبان کی خوبصورت ادائیگی میں مشہور تھے۔انتہائی شریف اور حلیم الطبع تھے۔جو بھی آپ کو دیکھتا فدا ہو جا تا۔آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح ایک خُدا کی عبادت کرتے۔شراب نوشی اور لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے سے سخت متنفر تھے۔اپنی اولاد کوظلم وستم سے باز رہنے کی تلقین کرتے تھے۔قریش حضرت عبدالمطلب کی ان خصوصیات کی وجہ سے بڑی عزت کرتے سیرۃ ابن ہشام عنوان عبدالمطلب